مالی سال 2020-21 کا بجٹ پیش کردیا گیا

وفاقی بجٹ 2020-21 منظور کرلیا گیا
وفاقی بجٹ 2020-21 منظور کرلیا گیا

 تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بغیر تین ہزار چار سو سینتیس ارب خسارے کا بجٹ پیش کردیا گیا ۔وفاقی میزانیے کا حجم سات ہزار دو سو چورانوے ارب، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

نئے مالی سال کے دوران وفاقی اخراجات کا کل تخمینہ سات ہزار ایک سو سینتس ارب، دو ہزار دو سو تئیس ارب روپے کے غیر ملکی قرضے حاصل کیے جائیں گے۔ وفاقی وزارتوں کے لیے چار سو چھہتر ارب مختص، این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو دو ہزار آٹھ سو چوہتر ارب روپے ملیں گے۔ پنشن کی ادائیگی کے لیے چار سو ستر ارب اور سبسڈیز کے لیے دو سو دس ارب کا بجٹ پیش کیا گیا۔

جی ڈی پی گروتھ دو اعشاریہ ایک، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک اعشاریہ چھ اور مہنگائی کی شرح ساڑھے چھ فیصد پر لانے کا ہدف، معاشی ترقی کا ہدف دو اعشاریہ ایک فیصد مقرر، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں پچیس فیصد تک اضافے کا ٹارگٹ رکھا گیا ہے۔

وفاقی بجٹ میں بچوں کا درآمدی دودھ سستا، ربڑ، سیمنٹ، موبائل فون سستے، مہنگا، سگریٹ اور سگار پر ٹیکس پینسٹھ سے بڑھا کر 100 فیصد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

سبسڈیز کی مد میں دو سو نو ارب مختص کر دیئے گئے ہیں۔ انفراسٹرکچر کی بہتری پر تین سو چونسٹھ ارب اور توانائی منصوبوں پر 80 ارب خرچ کیے جائیں گے۔ صاف پانی کے لیے ستر ارب، ٹرانسپورٹ اور کمیونیکشن کی بہتری کے لیے ایک سو اناسی ارب کا بجٹ مختص، ایوی ایشن ڈویژن کو ایک ارب بتیس کروڑ اور وزارت آئی ٹی کو چھ ارب سڑسٹھ کروڑ کی گرانٹس دی جائیں گی۔

بجٹ میں زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف دو اعشاریہ نو فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے دس ارب مختص، صنعتی شعبے میں نمو کا ہدف صفر اعشاریہ ایک فیصد رکھنے کا اعلان، مقامی صعنتوں پر ڈیوٹی بارہ سے کم کرکے چھ فیصد کر دی گئی۔ ہوٹلز کیلئے چھ ماہ کے لیے ٹیکس کی شرح اعشاریہ پانچ فیصد کرنے کا اعلان جبکہ غیر منقولہ جائیداد کی فروخت سے حاصل منافع ٹیکس سے مستشنیٰ قرار دیدیا گیا۔

حماد اظہر نے بجٹ تقریر کے دوران اعلان کیا کہ احساس پروگرام اگلے مالی سال بھی جاری رہے گا۔ نئے بجٹ میں دو سو آٹھ ارب روپے مختص، نیا پاکستان ہاؤسنگ کے لیے تیس ارب جبکہ ریلوے کے لیے چالیس ارب مختص کیے گئے ہیں۔ 

 آمدن کا تخمینہ چھ ہزار پانچ سو تہتر ارب، ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار تین سو چوبیس ارب، دفاع کے لیے ایک ہزار دو سو نواسی ارب روپے مختص، ٹیکس وصولیوں کا ہدف چار ہزار نو سو تریسٹھ جبکہ نان ٹیکس ریونیو ٹارگٹ ایک ہزار چھ سو دس ارب روپے مقرر کر دیا گیا۔

 وفاقی وزیر صنعت وپیداوار حماد اظہر کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ اسے وبا کے باعث مشکلات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے۔

تبصرے