دنیا کا وہ لیڈر جو کہتا تھا کورونا فقط زکام ہے۔

That Leader Whose Not Take Covid 19 seriously
دنیا کا وہ لیڈر جو کورونا کو زکام سمجھتا تھاـــفوٹوـــفائل

چین کے شہر ووہان سے ابھرنے والی مہلک وباء کوورنا وائرس جس نے دنیا کو ہلا کر رکھا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مشرق و مغرب میں پھیل گئی۔عالمی دنیا نے اس وباء کو عالمی وباء قرار دیدیا۔

مگر دنیا میں ایک ایسا لیڈر ہے جس نے اپنے لوگوں کو کہا یہ وائرس فقط زکام ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔وہ لیڈر اپنی پریس کانفرنس اپنے خطاب میں اس مہلک وائرس کی حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا رہا۔پور ی دنیا نے اپنے ملک میں لاک ڈاؤن لگایا۔مگر وہ لیڈر اپنے ملک میں لاک ڈاؤن کا سخت مخالف رہا۔حتی اس کے ملک کے کچھ لوگ اس کے اس فیصلے سے خوش ہوئے۔اس ملک کی اپوزیشن کہتی رہی لاک ڈاؤن کیا جائے مگر وہ لیڈر یہ کہتا نظر آیا کہ لاک ڈاؤن سے غریب طبقہ پس جائے گا امیر کو کچھ نہیں ہوگا۔

لاک ڈاؤن نہ لگانے کے فیصلے پر متعدد شہریوں نے اپنے لیڈر کے حق میں ریلی نکالی جس میں اس لیڈر نے خود بھی شرکت کی۔وہ لیڈ ر اس ریلی میں بھی کہتا نظر آیا کورونا وائرس کچھ بھی نہیں ہے یہ محض زکام ہے اور اس سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔پریس کانفرنس،تقریبات میں وہ لیڈر کوئی بھی احتیاطی تدابیر کرتا نظر نہیں آیا۔نہ ہی ماسک کا استعمال کیا اور نہ ہی سماجی فاصلے کو ملحوظ خاطر رکھا۔

مگر دیکھتے ہی دیکھتے ہی اس ملک میں کورونا کیسز تیزی سے بڑھنے لگے۔کورونا کے باعث اس ملک میں اموات کی تعداد بڑھ گئی اور آج یہ ملک کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔اس ملک میں کورونا کیسز سے مرنے والوں کی تعداد42ہزار ہوگئی ہے جبکہ اب تک کورونا کیسز کی تعداد ملک بھر میں 8لاکھ 33ہزار ہوگئی ہے۔

اس ملک کا نام برازیل ہے جہاں کے وزیر اعظم جئیر بولسونورو ہے جس کے غیر معقول اور غیر سنجیدہ فیصلوں نے برازیل ملک کو یہاں تک پہنچا دیا۔

تبصرے