جب اللہ کے پاس ہی جانا تھا،تو وہاں سے آئے کیوں؟

جب اللہ کے پاس ہی جانا تھا،تو وہاں سے آئے کیوں؟
جب اللہ کے پاس ہی جانا تھا،تو وہاں سے آئے کیوں؟

اکثر میں نے یہ سوال لوگوں کو کرتے دیکھا اور سنا بھی لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب خدا ہی کے پاس جانا تھا تو خدا کے پاس سے آئے کیوں؟یا خدا نے بھیجا ہی کیوں؟

ان سوالوں پر غور کیا جائے تو ان کے جوابا ت بہت مشکل بھی پیدا کر سکتے ہیں اور آسانی بھی۔بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ سائل کو مناسب جواب نہ ملنے پر سائل بدظن یا گمراہی کا راستہ پکڑ لیتا ہے۔ہمارے لیئے ہمارا ہی دین کیوں مشکل ہوگیا ہے؟ہم کیوں سیدھے سوالوں کے جوابات سیدھے سے نہیں بلکہ آئیں بائیں شائیں کرتے دیتے نظر آتے ہیں؟یہاں یہ لکھنا غیر مناسب ہوگا کہ دین ہمارے لیئے مشکل ہوگیا ہے بلکہ دین کو ہم نے خود مشکل بنا دیا ہے۔دین تو آسان فہم میں ہمیں دیا گیا ہے۔یہ لکھنا زیادہ بہتر ہوگا۔

ہم بنی نوع انسان اگر بارش کے برسنے کے عمل پر ہی غور وفکر کریں تو سا را کا سارا دین سمجھ آجاتا ہے۔لیکن ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ غور کیا جائے۔

بارش کیسے برستی ہے؟اس پورے عمل کا جائزہ لیتے ہیں اور قطرہ باران(پانی کا قطرہ) پر غور کرتے ہیں۔

سورج کی تپش سمندر کے پانی میں پڑتی ہے سورج کی اس تپش نے پانی کو گرم کیا۔پانی کے گرم ہونے سے یہ قطرہ بخار بن گیا،ہوا بن گیا اور ہوا بن کر یہ قطرہ اٹھا اوپر فضاؤں کی جانب اوریہ قطرہ اوپر فضاؤں میں ایسی جگہ جا پہنچا جہاں درجہ حرارت منفی میں تھا اور یہ قطرہ اس فضاء سے اس ماحول سے جم گیا اور پھر یونہی سورج کی تپش سے پانی کے قطرے بخار بن کر اٹھتے رہے اور منفی درجہ حرارت پر پہنچ کر جم جاتے رہے اور یوں یہ بادل بنتے رہے۔پھر ہواؤں نے ان بادلوں کو حرکت دی۔ان ہواؤں نے ان بادلوں کو سمندکے اوپر سے خشکیوں کی جانب منتقل کیااورپھر خشکیوں میں جہاں ایسا ماحول تھا جہاں درجہ حرارت ٹھنڈا نہیں گرم تھا وہاں یہ بادل جو منفی درجہ حرارت ہونے کی وجہ سے جم گئے تھے برسنا شروع ہوگئے۔غور کیجئے یہ وہی اک قطرہ ہے سمندر سے بخار بن کر اٹھا تھا اور اب خشکی پر جا گرا اور دیگر قطروں سے جا ملا اور انہیں کے ساتھ کسی ندی میں کسی دریا میں بہتا ہوا دوبارہ سمندر میں چلا گیا

خوب!اب کوئی سوال کرے کہ جب قطرے نے سمندر سے اٹھنا تھا اور سمندر میں ہی گرنا تھا تو یہ سمندر سے اٹھا ہی کیوں؟

لازم ہے سمندر سے قطرہ اٹھے کیوں لازم ہے؟کیونکہ سمندر میں سورج کی تپش پڑتی ہے اور جب سورج کی تپش سمندر پر پڑے گی تو سمندر مجبور ہے کہ اسکا قطرہ سورج کی تپش سے بخار بن جائے۔ قطرہ مجبور ہے کہ بخار بن کر اٹھے ہواؤں میں شامل ہوجائے اپنا سفر طے کرے۔قطرے کا اس لیئے بھی اٹھنا لازم ہے کیونکہ جب وہ سمندر میں تھا تو پہلے کھارا پانی تھا اب جب اپنا سفر طے کر کے دوبارہ سمندر میں جارہاہے تو میٹھا قطرہ بن کر جار ہا ہے یہ قطرہ سفر کرنے کے بعددوسروں کے لیئے اب زندگی بن کر جارہا ہے اب لوگ اسے پیئے گے اسکا استعمال کاشتکاری میں کریں گے۔کیو نکہ سب جانتے ہیں کاشتکاری کھارے پانی سے نہیں ہوسکتی۔

یعنی کھارے سے میٹھا بننے کے لیئے سفر و منازل طے کرنا لازم ہے

قارئین محترم!انسان کی مثال بھی یہی ہے انا اللہ و انا الیہ راجعون۔آیا خدا کی طرف سے ہے جانا بھی خدا ہی کی جانب ہے۔مگر جب دنیا میں گیا تو حقیقت کچھ اور تھی جب پلٹے گا خدا کی جانب تو حقیقت کچھ اور ہوگی۔جب دنیا میں گیا تو کھارا تھا اسے میٹھنا بننا ہے اور اسکے لیئے لازم ہے سفر کرے منازل طے کرے دوسروں کے لیے زندگی بنے بہترین شخصیت بنے اور جب اس انسان کا یہ سفر طے ہوتا ہے تو فرشتوں جیسی اطاعت گزار مخلوق بھی اس انسان کی علم و معرفت کی معترف ہو کر اس کے سامنے تسلیم ہوجاتی ہے۔

تحریر رضا عباس

نوٹ:اردو ٹرینڈز کا اور اسکی پالیسی کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی کوئی تحریر لکھنا چاہتے ہیں تو لکھیں اور ہمیں ہمارے ای میل ایڈریس پر اپنی مکمل معلومات جن
میں اپنا مختصر مگر جامع تعارف اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی سوشل میڈیا آئی ڈیز کے لنک بھی بھیجئے

Email: urdutrends1@gmail.com

تبصرے