عمران فارق قتل کیس اپنی نوعیت کا منفرد کیس کیوں ہے؟

Imra Farooq Murder Case
عمران فارق قتل کیس اپنی نوعیت کا منفرد کیس کیوں ہے؟

اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران فارق قتل کیس میں تین ملزمان کوعمرقید کی سزا سنادی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے مقدمۂ قتل مییں تین مجرمان کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

جمعرات کو فیصلہ جج شاہ رخ ارجمند نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی پر دس، دس لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے جو کہ مقتول کی اہلیہ کو بطور زر تلافی ادا کیا جائے گا۔

فیصلہ سننے کےلیے مجرمان کمرۂ عدالت میں موجود نہ تھے بلکہ انھوں نے اڈیالہ جیل میں ویڈیو لنک پر فیصلہ سنا۔

ملزم محسن علی کے وکیل نے فیصلے کے بعد کہا ہے کہ وہ اپنے موکل کی جانب سے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے

یہ کیس باقی کیسز سے منفرد کیوں؟

اس کیس کی تحقیقات پاکستان میں 2015 میں شروع ہوئی۔اس کیس مین تین ملزم کو سزا اور چار ملزمان اشتہاری ہیں؟

یہ واحد کیس ہے جس میں برطانوی حکومت نے ملزمان کو سزائے موت دینے سے منع کر رکھا ہے۔

کیا کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کو ملزمان کو سزائے موت دینے سے منع کر سکتا ہے؟اس کا جائزہ لیتے ہیں

برطانوی حکومت کے بار بار اصرار پر بالآخر جولائی 2019 میں ایک صدارتی آرڈیننس لایا گیا جس میں 1860 کے پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن تین میں ایک تبدیلی کر دی گئی جس کے مطابق اگر ایسے ممالک سے جہاں سزائے موت کا قانون موجود نہیں، کسی کیس میں شواہد یا ملزم حوالگی کے معاہدے کے علاوہ کسی بھی طرح کے معاہدے کے تحت پاکستان لائے جائیں اور مقدمہ چلایا جائے تو اگر جرم ثابت بھی ہوجائے پھر بھی عدالت ملزم کو سزائے موت نہیں دے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں جرم پر سزائے موت سب سے بڑی سزا ہے

تاہم آج اسلام آباد کی انسداد عدالت نے تین ملزمان کو ایم کیو ایم کے سابق رہنماء کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے جب کہ چار ملزمان اشتہاری ہیں

تبصرے