سپریم کورٹ:فائز عیسی کیس،وقفے کے بعد کیا ہوا؟

قاضی فائز کو دھمکی،آغا افتخار الدین کو نوٹس جاری
قاضی فائز کو دھمکی،آغا افتخار الدین کو نوٹس جاری

سپریم کورٹ میں فائز عیسی کی اہم سماعت آج ہوئی۔سماعت میں جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ نے وڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

اردو ٹرینڈز کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے جواب دیتے ہوئے کہ میں ایسے حالت میں جواب جمع کرا رہی ہوں جب میرے والد بستر مرگ پر ہیں مشکل وقت ہے مگر عدالت میں اپنا جواب جمع کراؤں گی۔

اہلیہ فائز عیسی نے کہا کہ انکی شادی 25دسمبر 1980کوہوئی۔

اہلیہ فائز عیسی نے اپنا برتھ سرٹیفیکیٹ،پرانا شناختی کارڈ جمع دیکھایا اور کہا کہ انکا سرینہ ہے اور انکی والدہ سپینیش ہیں۔

سرینہ فائز عیسی نے کہا کہ انہوں نے شادی کے اکیس سال بعد لندن میں جائیدادیں خریدی۔
پہلی جائیداد 2004میں خریدی۔

کراچی میں امریکن اسکول میں ملازمت کرتی رہی، گوشوارے کرانے پر حکومت نے مجھے ٹیکس سرٹیفکیٹ جاری کیا، میرا ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا، ایف بی آر سے ریکارڈ کی منتقلی کا پوچھا تو کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

سرینہ فائز عیسی نے کہا کہ حکومت کو میری زمین کے بارے میں پتہ ہے۔ اہلیہ نے فارن کرنسی اکاؤنٹ کا ریکارڈ دکھاتے ہوئے کہا کہ 2003 سے 2013 تک رقم اسی اکاؤنٹ سے باہر گئی پیسہ بینک اکاونٹ سے لندن بھیجا گیا، جس اکاؤنٹ سے پیسہ باہر گیا وہ میرے نام پر ہے، ایک پراپرٹی 26300 پاؤنڈ میں خریدی گئی، بنک کے فارن کرنسی اکاؤنٹس میں سات لاکھ پاؤنڈ کی رقم ٹرانسفر کی گئی، میرا لندن اکاونٹ بھی صرف میرے نام پر ہے۔

تاہم عدالت نے اہلیہ فائز عیسی کا بیان سننے کے بعد انکے حوصلے کی داد دی اورسماعت ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں:https://www.urdutrends.com/1279

تبصرے