اب حکومت کو حکومت سے خطرہ ہے

اب حکومت کو حکومت سے خطرہ ہے
اب حکومت کو حکومت سے خطرہ ہے Photo: Tribune

دنیا میں متعدد ممالک ہیں جنہیں کسی نہ کسی خطرے کا سامنا رہتا ہے کوئی نہ کوئی ایسا گروہ وجود رکھتا ہے جس سے اس ملک کی سیاسی قیادت خطر میں نظر آتی ہے مگر سر زمین پاکستان پر معاملہ بر عکس ہے۔

آپ پوچھیں کیا موجودہ حکومت تحریک انصاف کو کسی سے کوئی خطرہ ہے؟کیا ایسی کوئی طاقتور اپوزیشن اس حکومت کے سامنے اپنا وجود رکھتی ہے جسکا کوئی نظریہ و مقصدہو اوروہ اس حکومت کو مشکلات سے دو چار کرے؟ نہیں،اس سوال کا جواب یہ ہے۔اپوزیشن تو خود تعاون کا کشکول لیئے در اقتدار پر کھڑی ہے کہ کب صاحب اقتدار اس کشکول میں کچھ ڈال دے جس سے انکا بھلا ہو

تو پھر کیا مقتدر حلقوں سے خطرہ ہے؟” افواج پاکستان ہمارے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے”یہ جملہ آپنے وزیر اعظم پاکستان اور حال ہی میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری سے سنا یا پڑھا ہوگا۔اس بیان کے بعد یہ احتما ل بھی ختم ہوا ہے کہ موجودہ حکومت کومقتدر حلقوں سے خطرہ ہوگا۔

عوام سے ہوگا خطرہ؟ عوام بیچاری خود خطرے سے دو چار ہے وہ بھلا کس کے لیئے خطرہ بنے گی؟ اور ہماری عوام بہت ظلم برداشت کرنے والی ہے جو کچھ ہوجائے اس عوام نے ہمیشہ ظلم کے خلاف بولنے کی بجائے ظلم پر چپ رہنے کو ترجیح دی ہے۔ اس عوام کو ان دو سالوں میں خواب اور امیدیں اتنی دیکھادی گئیں کہ اب یہ اور کچھ بھی نہیں فقط روزگار مانگتے ہیں جو انہیں وہ بھی میسر نہیں اور اب حالت کچھ یو ں ہوچکی ہے کہ جو دے اسکا بھی بھلا جو نہ دے اسکا بھی بھلا۔۔

پھر حکومت کو کس سے خطرہ ہے؟ کیا چیز رکاوٹ ہے کارکردگی دکھانے میں؟تو اسکا جواب یہ ہوگا
” اب حکومت کو حکومت سے خطرہ ہے

جی ہاں! اب حکومت کو حکومت سے خطرہ ہے،حکومتی وززراء کے بیان سن لیئے جائیں اتحادیوں کے بیان سن لیجئے خود ہی مایوسی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ایک وزیر کہتے ہیں کہ چھ ماہ کا وقت دیا گیا ہے حکومت کو۔جب کہ وزیر اعظم عمران خان قومی اسمبلی میں سب اچھے کی رپورٹ دیکر جاتے ہیں۔پھر سوال یہ ہے کہ جب سبھی اچھا ہے تو چھ ماہ کی مہلت کیوں؟پٹرول سستا ہوا آپ عوام کو نہ دے سکے۔چینی،آٹا بحران سب کے سامنے عوام کہتی ہے کہ ان مصنوعی بحران والوں کے خلاف ایکشن لیں آپ کمیشن کی رپورٹ دیکھا دیتے ہیں اور بحران پیدا کرنے والے سرحد سے باہر لطف اندوز ہورہے ہیں۔
ایک کروڑ نوکریاں،پچاس لاکھ گھر نہیں چاہیئے اس عوام کو بس

البتہ انہیں وہ دیدیا جائے جو آپ کے آنے سے پہلے انکے پاس تھا اگر نہیں دے سکتے تو پھر آپ کو ارتظی نشاط یہ شعر چھو ڑ گئے ہیں کہ۔۔
کرسی ہے،تمہارایہ جنازہ تو نہیں ہے
کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے؟

تحریر رضا عباس

نوٹ:اردو ٹرینڈز کا اور اسکی پالیسی کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی کوئی تحریر لکھنا چاہتے ہیں تو لکھیں اور ہمیں ہمارے ای میل ایڈریس پر اپنی مکمل معلومات جن
میں اپنا مختصر مگر جامع تعارف اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی سوشل میڈیا آئی ڈیز کے لنک بھی بھیجئے

Email: urdutrends1@gmail.com

تبصرے