ہائے ! بلوچستان

Baluchistan Issues
بلوچستان بنیادی ضروریات سے اب تک محروم

کچھ روز قبل کوئٹہ میں انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے احتجاج کرنے والی طالبات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا کہ پولیس نے احتجاج کرنے والی طالبات پر نہ صرف تشدد کیا بلکہ گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔ یہ خبر مین اسٹریم میڈیا کی شہ سرخیوں کا بھی حصہ بنی۔گرفتار طالبات کی رہائی کے ساتھ ہی یہ مسئلہ ختم ہو گیا یا یوں کہیے کہ میڈیا نے اس طرف سے توجہ ہٹا لی۔ آج کل آن لائن کلاسز کی بناء پر انٹرنیٹ ہر طالب علم کی ضرورت ہے۔ نہ صرف کوئٹہ، بلکہ گلگت بلتستان کے کئی علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سہولیات نہ ہونے کے سبب طلباء آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پائے گئے ہیں۔ یہ حقیقت تو سب پر عیاں ہے کہ ہمارا تعلیمی ڈھانچہ طبقاتی نظام میں بٹا ہوا ہے صاف الفاظ میں کہا جائے تو ہمارا تعلیمی نظام صرف امراء یا کسی حد تک متوسط طبقہ کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ہم تعلیم پر اپنی جی ڈی پی کا 02فیصد سے بھی کم خرچ کرتے ہیں۔خیر یہ تو پورے ملک کا مسئلہ ہے لیکن! اگر بلوچستان کی بات کی جائے تو معدنی ذخائر کے لحاظ سے سب سے زیادہ امیر اور شخصی اعتبار سے سب سے غریب صوبے میں جہاں دیگر ضروریات زندگی نا پید ہیں وہیں انٹرنیٹ اور دیگر ڈیجیٹل سہولیات بھی معدوم ہیں۔ کوئٹہ میں احتجاج ہوا تو مین ا سٹریم میڈیا پر خبر آئی،آپ کو جان کر حیرت ہو گی کہ بلوچستان کے عوام انٹرنیٹ کی بندش کے خلاف کب سے سراپہ احتجاج ہیں اور یہ صورتحال بلوچستان کے تقریباََ ہر ضلع میں یکساں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کچھ اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر انٹرنیٹ بند ہے۔اگر بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال اتنی ہی خراب ہے تو سارا ملک اس صورتحال سے انجان کیوں ہے؟ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش کے خلاف تو ہمارا میڈیا بھرپور آواز اٹھاتا ہے تو پھر اپنے ملک میں ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف خاموش کیوں؟ پہلے ہی بلوچستان کے عوام کو غربت، دن بدن بڑھتی بے روزگاری اور لاپتہ افراد کے لامتناہی سلسلے کا سامنا ہے۔ کوئی بھی حکومت چاہے صوبائی ہو یا وفاقی نے کبھی بلوچستان کے مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا اب کے بار بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے۔ جام کمال حکومت محض دعوں کے سوا کچھ نہیں کر رہی۔ اور رہی بات وفاقی حکومت کی تو اس کی کارکردگی تو خود اس کے لیے باعث شرمندگی بنتی جا رہی ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی جو اب سے کچھ روز قبل تک حکومت کی اتحادی جماعت تھی اپنے چھ نکات کے ساتھ حکومتی اتحاد میں شامل ہوئی تھی، ان چھ نکات میں لا پتہ افراد کی بازیابی، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور بلوچستان میں بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے مطالبات شامل تھے جو کسی بھی طرح سے غیر آئینی نہیں تھے۔وفاقی حکومت مکمل طور پر ان چھ نکات پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے بار بار کی یقین دہانیوں سے تھک ہار کر آخر کار حکومت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کیا اور سننے میں تو یہاں تک آیا کہ وہ کہتے ہیں کہ میرے چھ نکات کو شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات سے مختلف نہ سمجھا جائے میں یہاں پر کسی طرح کا موازنہ تو نہیں کرنا چاہتا لیکن جب یہ نکات حقیقی طور پر آئینی مطالبات پر مبنی ہیں تو ان پر عمل درآمد نہ ہونا سمجھ سے باہر ہے اور عمل درآمد تو دور کی بات ہے کوئی ان کو سنجیدہ لینے پر بھی آمادہ نہیں ہے۔
آخر کب تک بلوچستان کے عوام اس جبر ِ مسلسل کو سہتے رہیں گے؟ کب تک ہم نفرت کو پروان چڑھاتے رہیں گے؟ آخر ہم تاریخ سے کیوں نہیں سیکھتے؟ عوام کی خوشحالی سے ہی ملک مضبوط ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے حالات کسی بھی طرح سے مستحکم پاکستان کے لیے سود مند نہیں ہیں۔ خوشحال بلوچستان ہی مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔

تحریر نادر شاہ

نوٹ:اردو ٹرینڈز کا اور اسکی پالیسی کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی کوئی تحریر لکھنا چاہتے ہیں تو لکھیں اور ہمیں ہمارے ای میل ایڈریس پر اپنی مکمل معلومات جن
میں اپنا مختصر مگر جامع تعارف اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی سوشل میڈیا آئی ڈیز کے لنک بھی بھیجئے

Email: urdutrends1@gmail.com

تبصرے