نیب تفتیشی افسران میں اہلیت ہی نہیں ہے، سپریم کورٹ

نیب تفتیشی افسران میں اہلیت ہی نہیں ہے، سپریم کورٹ
نیب تفتیشی افسران میں اہلیت ہی نہیں ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں لاکھڑا پاور پلانٹ کی تعمیر میں بے ضابطگیوں کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ نیب کے تفتیشی افسران میں اہلیت اور صلاحیت نہیں ہے

اردو ٹرینڈز کے مطابق سپریم کورٹ میں لاکھڑا پاور پلانٹ کی تعمیر میں بے ضابطگیوں کے کیس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعتعدالت نے حکم دیا کہ چیئرمین نیب تفتیشی ٹیم کو تبدیل کریں، نیب میں تفتیش کا معیار جانچنے کے لیے کوئی نظام نہیں

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نقائص سے بھرپور تفتیشی رپورٹ ریفرنس میں تبدیل کردی جاتی ہے، ریفرنس دائر کرنے کے بعد نیب اپنی غلطیاں سدھارنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ غلطیوں سے بھرپور ریفرنس پر عدالتوں کو فیصلہ کرنے میں مشکلات ہوتی ہیں۔

یف جسٹس آف پاکستان، جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا آغاز ہی نیب آفس سے ہوتاہے۔چیف جسٹس نے سماعت کے دوران پوچھا کہ کیا پراسیکیوٹر جنرل نیب آئے ہیں؟ آپ نے تمام الزام عدالتوں پر لگا دیا ہے۔پراسیکیوٹر جنرل نیب نےجواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا ہی ہے، ہمیں کوئی معاونت نہیں ملتی، حقائق اور لیگل پہلوؤں کا معلوم نہیں ہوتا اور تحقیقات سالوں کرتے رہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیب کے ریفرنس کی بنیاد ہی غلط ہوتی ہے، ریفرنس میں کوالٹی نہیں ہوتی اور ریفرنس میں پچاس پچاس لوگوں کو گواہ بنالیا ہے، جبکہ کوالٹی کا ایک گواہ ہی کافی ہوتا ہے۔

تبصرے