ائیر بلیو طیارہ حادثے کو گزرے 10 برس بیت گئےمگر ذمہ دار کون؟ اب تک نہ پتہ چل سکا

ائیر بلو طیارہ حادثے کو گزرے 10 برس بیت گئےمگر ذمہ دار کون؟ اب تک نہ پتہ چل سکا
ائیر بلو طیارہ حادثے کو گزرے 10 برس بیت گئےمگر ذمہ دار کون؟ اب تک نہ پتہ چل سکا

ائیر بلیو کا بدقسمت طیارہ 28 جولائی 2010 کو مارگلہ کی پہاڑیوں پر گرکرتباہ ہوا تھا، حادثے میں 146 مسافر اور عملے کے 6 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

ائیربلیو کی پرواز اے تھری ٹو ون نے کراچی ائیرپورٹ سے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل اسلام آباد ائیرپورٹ کےلیے اڑان بھری تاہم شدید بارش اور بادلوں کی وجہ سے یہ بدقسمت طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں میں کریش کرگیا تھا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر ائیر کمووڈور خواجہ ایم مجید کی سربراہی میں 7 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی جس میں تکنیکی اور آپریشنل فیلڈ میں مہارت رکھنے والے افراد اور ائیربلیو کا ایک نمائندہ بھی شامل تھا۔

حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ 10 سال بعد کراچی طیارہ حادثے کی رپورٹ کے ساتھ وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے ایک پریس کانفرنس میں عوام کے سامنے رکھی۔ 

تبصرے