اعلان کردیا گیا،پاکستان تہتر برس کا ہوگیا ہے

اعلان کردیا گیا،پاکستان تہتر برس کا ہوگیا ہے
اعلان کردیا گیا،پاکستان تہتر برس کا ہوگیا ہے

آج سے تہتر سال پہلے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب آزادی کا ایک بیج بویا گیا ۔جسکی آبیاری میں کئی جانوں کا لہو رنگ شامل ہے۔ لیاقت علی خان سے عمران خان تک کا یہ سفر اس ننھے سے بیج کے لیئے خاصا دشوار رہا کئی موسموں کی سختیوں کا سامنا کیا۔ کبھی سیاسی ماحول گرم رہا تو کبھی سماجی اکتاہٹ کی زد میں کب یہ ننھا بیج پودے سے ایک تناور درخت بنا اس بات کا ادراک صرف انہیں ہوگا ۔جنہوں نے اسکی آبرو کی حفاظت کے لئے سیسہ پلائی دیوار کی مانند اسکو اپنے حصار میں رکھا۔30 اکتوبر 1947 کو قائد اعظم نے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ ” دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی”۔ گزشتہ سالوں کی مسافت پہ نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس قول کی حقانیت میں کوئی شائبہ نہیں۔اور ہمیں امید ہے کہ گزرے سالوں کی طرح آئندہ سالوں میں بھی دنیا کی کوئی بیرونی طاقت پاکستان کو توڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ تمام تر بیرونی دباﺅ، سازشوں اور نفرتوں کے باوجود بھی پاکستان عالمی بھاگ دوڑ میں مزاحمت کی بھرپور کوشش کررہا ہے۔ پہلی ایٹمی اسلامی ریاست ہونے کے سبب ہمارا وطن تمام دشمنان اسلام کی نظروں میں کھٹک رہا ہے مگر اسکے باوجود ہم اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔خدا کی خاص رحمت اور بزرگوں کی بشارت تک تو بات ٹھیک ہے لیکن ذرا ٹھریئے۔!
ذرا ایک نظر گریبان میں جھانکیئے اور اپنی سوچ کی گتھی کو کھنگالیئے اور پھر فیصلہ کیجئے کیا واقعی پاکستان کو صرف بیرونی عناصر سے خطرات لاحق ہیں؟اگر ہم نے باہر کی دشمن طاقتوں کو شکست دے کر اپنی سرزمین کو بچا بھی لیا تو وطن کے اندر موجود شرپسندانہ سوچ سے کس طرح بچا پائیں گے؟ مختلف سیاسی سماجی اورمذہبی تفرقات کی بدبو، ناانصافی کی بھینٹ چڑھتا عدالتی نظام، لسانیات اور روایات کی سولی پر لٹکی ہوئی زندہ لاشوں سے اٹھتے بدبو کے بھبکے آپکا سانس لینا مشکل کر دیں گے۔آئین اور قانون کا مذاق اڑاتی ہوئی قلم کاریاں آپ پر یہ جملے کسیں گی۔ہمیں 1947 کی صف سے نکلے صدیاں گزر چکیں۔ اپنے گریبان میں جھانکئیے تاکہ اندازہ ہو سکے اپنے مفاد کے عوض ہمارے حب الوطنی کے سستے جذبات کب کے کوڑیوں کے دام بک چکے۔اب ہم پاکستانی نہیں بلکہ کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کے سچے اور کھرے پیروکار یا سرگرم کارکن بن چکے ہیں۔ہمارے اندر کا پاکستانی کب کا مر چکا۔ہر سال 14اگست کو اپنے سینوں پہ سفید اور ہرا جھنڈا لگا کر ہم جشن آزادی کے نام پر اپنے مردہ ضمیر کی برسی مناتے ہیں۔گریبان میں جھانکیئے اور سوچئیے سوائے آزادی کی نعروں اور کھوکھلی سوچ کے ہم نے اپنے وطن کو کیا دیا؟آج ہمارا وطن پاکستان ہماری اسلامی ریاست جسے ہم نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر حاصل کیا آج وہ کہاں ہے؟
ہمارا وطن پاکستان ہماری اسلامی ریاست جسے برابری کے حقوق کی کی بنیاد پر حاصل کیا آج کہاں ہے؟
ہمارا وطن پاکستان ہماری اسلامی ریاست جسے عزتوں کے تحفظ کے نام پہ حاصل کیا آج کہاں ہے؟
کہاں ہے وہ پاکستان وہ مملکت خداداد جسے اتحاد، تنظیم، ایمان اور یقین محکم کی بنیاد پہ حاصل کیا گیا تھا؟ اس بار اپنے سینے پہ سبز اور سفید رنگ کی نمائش کرنے اور آزادی کے نغمے گنگنانے سے پہلے خود سے ایک بار یہ سب سوال ضرور پوچھئے گا۔
اگر ان سوالوں کے جواب مل جائیں تو آزادی مبارک،لیکن اگر ان سوالوں جیسے کئی اور سوال جنم لینے لگیں تو ایک بار پھر ضمیر کی برسی منائیے اور مل کر گنگنائیے اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔

تحریر انیقہ عباسی

نوٹ:اردو ٹرینڈز کا اور اسکی پالیسی کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی کوئی تحریر لکھنا چاہتے ہیں تو لکھیں اور ہمیں ہمارے ای میل ایڈریس پر اپنی مکمل معلومات جن
میں اپنا مختصر مگر جامع تعارف اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی سوشل میڈیا آئی ڈیز کے لنک بھی بھیجئے

تبصرے