کم وقت میں مرکزی ملزمان تک پہنچ گئے،پنجاب حکومت

کم وقت میں مرکزی ملزمان تک پہنچ گئے،پنجاب حکومت
کم وقت میں مرکزی ملزمان تک پہنچ گئے،پنجاب حکومت

پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس انعام غنی نے کہا ہے کہ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے والےملزمان کی شناخت کے لیے الیکشن کمیشن، نادرا سے ڈیٹا لیا، سائنٹیفک تحقیقات میں وقت لگتاہے، عابد علی نامی لڑکے کا سارا ریکارڈ حاصل کیا۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ راتوں رات ہم نے فورٹ عباس سے ساری تفصیلات جمع کیں، عابد علی کےنام پر 4 ٹیلی فون سمز تھیں، جو وہ بند کرچکا تھا۔

لاہور میں پریس کا نفرنس کرتے ہوئے انعام غنی نے کہا کہ گزشتہ رات 12 بجے کے قریب کنفرم ہوا کہ عابد علی واقعے میں ملوث ہے، عابد علی کا پہلے ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تھا جس سے نمونے میچ کرگئے، راتوں رات ہم نے ملزم کی تمام تفصیلات حاصل کیں۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ ملزم عابد کے نام پر 4 سمیں تھیں جو وہ مختلف اوقات میں بند کرچکا تھا، ایک سم جو ملزم استعمال کررہا تھا اس کے نام پر نہیں تھی، ہم ملزم کے ساتھی تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہوئے، ملزم عابد کا گھر کھیتوں میں ایک ڈیرے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم کے گھر پرچھاپے کے دوران ملزم عابد اور اس کی بیوی فرار ہوگئے، دوسرے ملزم وقار کے گھر بھی چھاپا مارا گیا لیکن وہ بھی فرار ہوچکا تھا، ملزمان کا تمام ریکارڈ موجود ہے، ہم ان کے پیچھے ہیں۔

آئی جی پنجاب نے کہا کہ سی ٹی ڈی اور لاہور پولیس سب ملزمان کے پیچھے ہیں، جلدملزمان تک پہنچنےمیں کامیاب ہوجائیں گے، ملزمان کو گرفتار کرلیں گے۔

تبصرے