یہ گناہ خلوتوں کا ہی نتیجہ ہیں جو معاشرے میں ملتے ہیں۔۔

یہ گناہ خلوتوں کا ہی نتیجہ ہیں جو معاشرے میں ملتے ہیں۔۔
یہ گناہ خلوتوں کا ہی نتیجہ ہیں جو معاشرے میں ملتے ہیں۔۔

خلوت ،وہ خلوت جس میں انسان کے لیئے گناہ کا میدان ہموار ہوجائے،ان خلوتوں سے بچو۔۔!!
اگر کوئی یہ گمان کرے کہ وہ خلوت میں جارہا ہے اور گناہ کا مرتکب نہیں ہوگا۔جھوٹا ہے وہ گمان بھی خود کو ایسی تسلی دے رہا ہے جو ہے ہی جھوٹ۔ نامحرم خلوت میں ملاقات نہ کریں۔اگر بہت ضروری ہے تو پھر چاہیئے جلوت میں بات کرو،خلوت میں نہیں۔سب کے سامنے بات کرو گے تو پھر گناہ کا عنصر نہیں ہوگا۔
اے اولاد آدم یاد رکھو۔۔
شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے
بس اسے تم کھلا دشمن جانو

خلوت ممنوع،کلام اللہ میں خلوت میں گنا ہ کو عظیم گناہ قرار دیا گیا ہے۔منع کیا ہے کہ قرآن مجید نے خلوت نہ اختیار کرو۔حتی بہن بھائی بھی خلوت نہ کریں۔کم عمر میں بھی نہ کریں۔فقط یہ نہیں ،کسی نامحرم کے ساتھ خلوت کو نہ کرو،بلکہ اکیلے بھی نہ کرو،موبائل استعمال کرنا ہے،لیپ ٹاپ استعمال کرنا ہے جو بھی کرنا ہے اپنے کمرے کا دروازہ کھلا رکھو۔کھڑکی کھلی رکھو۔تا کہ تمہیں کوئی آتا جاتا دیکھ سکے اور یوں گناہ کا عنصر نہیں ہوگا۔اگر دین الہی کے قوانین تم نے نہ مانے تو پھر تم میں تاغی عنصر بغاوت کرے گا۔تمہیں شہ دے گا اور تم پھر ان گناہوں کے مرتک ہوگے جسکا گواہ خود اللہ ہوگا۔دین الہی کا منکر ،اگر مشاہدہ چاہتا ہے تو کر کے دیکھ لے ،جائزہ لے لیں ایسے افکار کا،معلوم ہوجائے گا یہ گناہ خلوتوں کا ہی نتیجہ ہیں جو معاشرے میں ملتے ہیں۔
خود کو خلوت میں سمجھ کر محفوظ نہ سمجھے،خلوت نشین،خلوت پسند یہ جان لیں کہ خلوت میں اس پر آفات کی یلغار ہے ،ایک یلغار آپکے نفس کی جانب سے ہے،ایک یلغار باہر سے ہے،اور آپ تنہا خلوت میں اسکی زد میںہے۔ہر ایک خلوت گزیدہ ہے۔یعنی خلوتوں کا ڈسا ہوا ہے۔
اے پروردگار بخش دے وہ گناہ جو میں نے اپنی ذات پر کئے۔۔

یہ جملے بتاتے ہیں ،یہ دعائیہ کلمات بتاتے ہیں کہ انسان اپنی نفس پر اپنی ذات جتنے ظلم خود کرتا ہے کوئی دوسرا نہیں کرتا۔
آج اپنے معاشرے کو دیکھیں۔کیسی کسی خبر سننے میں آتی ہیں؟کیوں؟اس لیئے کہ سبھی نے دینی اقدار کو بھلا دیا ہے۔
آپ چاہے لبرل ہو،سیکیولر ہو،دینی ہو ۔ان قوانین پر عمل نہ کیا تو یہ ہوتا رہے گا۔
قارئین محترم ،جس نے ہمیں خلق کیا ہے ہے وہ ذات اللہ ہمیں ہم سے بہتر جانتی ہے۔تو پھر ایسی جگہ خود کو آزمانا چھو ڑ دو جہاں تم نحیف ہو۔ایسی جگہ خود کو آزمانا جہاں تم کمزور ہو تو یہ تمہاری حماقت ہے۔

تبصرے