آرمینیا جنگ بندی پر رضا مند ہوگیا،عالمی طاقتوں سے بات ہوسکتی ہے،آرمینیا

آرمینیا جنگ بندی پر رضا مند ہوگیا،عالمی طاقتوں سے بات ہوسکتی ہے،آرمینیا
آرمینیا جنگ بندی پر رضا مند ہوگیا،عالمی طاقتوں سے بات ہوسکتی ہے،آرمینیا فوٹو--- رائٹرز

آرمینیا نے نیگورنو-کاراباخ میں ایک ہفتے سےجاری جھڑپوں میں جانی نقصان کے بعد کہا ہے کہ روس سمیت دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ جنگ بندی پر بات کرنے کو تیار ہیں۔

خبر ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق آرمینیا کا کہنا تھا کہ وہ روس، امریکا اور فرانس کے ساتھ نیگورنو-کاراباخ میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کریں گے۔آرمینیا کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘ہم پرامن انداز میں تنازع کا حل نکالنے کے لیے پرعزم ہیں’۔

اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ ‘ہم آذربائیجان کی جارحیت کو پسپا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے لیکن اس کے ساتھ ہم 1994 اور 1995 کے معاہدوں کی بنیاد پر عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کو تیار ہیں’۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ پائیدار جنگ بندی اس وقت ممکن ہوسکتی ہے جب آرمینیا، نیگورنو-کاراباخ سے دست بردار ہوں۔رپورٹ کے مطابق آذر بائیجان نے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک کو جنگ بندی کے حوالے سے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔

اس سے قبل آذربائیجان کے صدر الہام علی یوف نے نیگورنو-کاراباخ پر آرمینیا سے کسی قسم کے مذاکرات کے امکان کو مسترد کردیا تھا جبکہ قریبی اتحادی ترکی کا کہنا تھا کہ مذکورہ تینوں عالمی طاقتوں کا جنگ بندی پر کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔

تبصرے