جلسے،جلوس،احتجاج دھرنا،اس سیاست میں حکومت،اپوزیشن ایک پیج پر

جلسے،جلوس،احتجاج دھرنا،اس سیاست میں حکومت،اپوزیشن ایک پیج پر
جلسے،جلوس،احتجاج دھرنا،اس سیاست میں حکومت،اپوزیشن ایک پیج پر

ملک میں پھر سے سیاست ایک بار جلسے،ریلیوں اور دھرنوں کی شروع ہونے کو ہے۔پچھلی بار اپوزیشن کا کردار پاکستان تحریک انصا ف نے ادا کیا۔مگر اس بار معاملہ برعکس ہے۔اس بار حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہے اور اپوزیشن پاکستان مسلم لیگ ن اور دیگر سیاسی جماعتوں کی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے اے پی سے میں اتفاق کیا کہ ایک فورم بنایا جائے جس میں حکومت کے خلاف ایک موثر بیانیہ اور حکومت گرانے کے لیئے عملی اقدامات کیئے جائیں،اپوزیشن کی اس سوچ اور اتفاق کے بعد پی ڈی ایم اے یعنی پاکستان ڈیموکریٹک الائنس وجود میں آیا۔

پی ڈی ایم وجود میں آنے کے بعد یہ طے پایا کہ حکومت کے خلاف پہلا جلسہ پنجاب کے علاقے گوجرانوالہ میں کیا جائیگا۔جس میں تمام اپوزیشن جماعتیں اپنا پاور شو دیکھائیں گیں۔دوسری جانب حکومت بھی جلسے والی سیاست سے پیچھے نہیں۔اپوزیشن کو دیکھتے دیکھتے حکومت نے بھی عوام میں جلسوں کی صورت میں جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت راولپنڈی کے مشہور مقام،لیاقت باغ میں اپنا پاور شو ہفتے کو کرے گی۔

یہ تھی دونوں جانب کی جلسوں کی سیاست سے متعلق معلومات،تاریخ میں لکھا ہے ہر حکومت میں رہنے والی اپوزیشن دھرنا،احتجاج،جلسے اور ریلیاں نکالتی ہے اور حکومت عوام کے اندر اپنا اعتماد مزید بڑھا نے کے لیئے عوامی ریلیف دینا شروع کرتی ہے اورمزید عوام دوست منصوبوں کا آغاز کرتی ہے۔

یعنی اپوزیشن جلسوں سے اور حکومت ڈیلیور کرکے عوام میں اعتماد بڑھا تی ہے۔مگر یہاں حکومت اوراپوزیشن ایک پیج پر ہیں۔دونوں ہی میدان عمل میں سرگرم ہونے کو تیار ہیں

دونوں کا مقصد کیا عوامی ہے؟

اپوزیشن اور حکومت ایک دوسرے کے خلاف تو ہیں ہی مگر انکا مقصد کیا ہے؟کیا عوام کو ریلیف دینا ہے؟
ملک میں آئے روز برھتی مہنگائی سے شہری پریشان ہیں۔لوگوں کے پاس لگا لگایا روزگار جارہا ہے۔کوئی ایسا قریب میں بڑا منصوبہ نہیں ہے جس سے روز گار کے مواقع پیدا ہوں۔مگرحکومت تو جلسوں کی صورت میں ہی اپنی کارکردگی دیکھانے کا ارداہ رکھتی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن ہے جس کا نعرہ وہی ہے جو اقتدار میں آنے سے پہلے پاکستان تحریک انصا ف کا تھا۔یعنی الیکشن میں دھاندلی۔۔ بقول نواز شریف کے جیتے وہ تھے جیتوا کسی اور کو دیا۔۔

ان دھرنوں کی سیاست سے کیا عوام کو ریلیف ملے گا؟کیا،ملک میں مہنگائی میں کمی آئے گی؟شاید نہیں کیونکہ عوام کے مقدر میں مہنگائی کی چکی میں پسنا لکھا ہے اور کچھ نہیں۔۔

تحریر رضا عباس

نوٹ:اردو ٹرینڈز کا اور اسکی پالیسی کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی کوئی تحریر لکھنا چاہتے ہیں تو لکھیں اور ہمیں ہمارے ای میل ایڈریس پر اپنی مکمل معلومات جن
میں اپنا مختصر مگر جامع تعارف اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی سوشل میڈیا آئی ڈیز کے لنک بھی بھیجئے

تبصرے