پشاور: اربوں کی بسیں،کھلے آسمان تلے کھڑی ہیں،کوئی پالیسی نہیں،عدالت

پشاور: اربوں کی بسیں،کھلے آسمان تلے کھڑی ہیں،کوئی پالیسی نہیں
پشاور: اربوں کی بسیں،کھلے آسمان تلے کھڑی ہیں،کوئی پالیسی نہیں

پشاور:بی آر ٹی روٹ کیساتھ ٹیکسی اور رکشہ کے چلنے پر پابندی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی ہے۔کیس کی سماعت جسٹس قیصر رشید اورجسٹس لعل جان خٹک نے کی ہے۔

اردو ٹرینڈز کےمطابق پشاور:بی آر ٹی روٹ کیساتھ ٹیکسی اور رکشہ کے چلنے پر پابندی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی ہے۔کیس کی سماعت جسٹس قیصر رشید اورجسٹس لعل جان خٹک نے کی ہے۔سماعت کے دوران ٹرانس پشاور اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے

جسٹس قیصر رشید نے استفسار کیا کہ اگر ساری بسیں اٹھا دیتے اور بی آر ٹی بسیں خراب ہوجائے تو لوگ کیا کریں گے؟بسیں دو دن چلتی ہے پھر خراب ہوجاتی ہیں۔

جسٹس قیصر رشید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے کی بسیں ہیں اور کھلے آسمان تلے کھڑی ہیں؟کیا کوئی ضابطہ بھی ہے یا نہیں؟

عدالت نے ٹرانس پشاور اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بسیں آپکو تحفے میں نہیں ملیں بلکہ عوام کے پیسوں سے ملیں ہیں

تاہم عدالت نے ڈی جی پی ڈی اے اور سی ای او ٹرانس پشاور کو کل طلب کرلیا

تبصرے