کشمور میں ماں اوربیٹی کے ساتھ ریپ،ملزم نے کیا طریقہ اپنایا؟

کشمور میں ماں اوربیٹی کے ساتھ ریپ،ملزم نے کیا طریقہ اپنایا؟
کشمور میں ماں اوربیٹی کے ساتھ ریپ،ملزم نے کیا طریقہ اپنایا؟

سند ھ کے علاقے کشمور میں موٹروے زیادتی کے بعد ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے۔جہاں ایک ماں اور اسکی پانچ سالہ بیٹی کو درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔

اس واقعے کی تفصیلات کچھ یوں ہے کہ متاثرین یعنی ماں اپنی نو عمر بیٹی کے ساتھ ملزم رفیق سے نوکری کی غرض سے ملنے گئی۔ملزم رفیق سے متاثرہ ماں او ربچی کی ملاقات جے پی ایم سی کراچی میں ہوئی ۔ملاقات میں ملزم رفیق نے متاثرہ خاتون کو یقین دلایا کہ وہ اس نوکری کشمور میں کرادے گا۔

تاہم جب متاثرہ خاتون اپنی نو عمر بیٹی کے ساتھ کشمور پہنچی اور ملزم رفیق کے گھر گئی تو وہاں ملزم نے خاتون کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد خاتون کو ایک اور شخص کے پاس بھیج دیا اور خاتون کی پانچ سالہ بچی کو اپنے پاس رکھ لیااور دھمکی دی کہ وہ اس شخص کے پاس جائے اور اور خاتون کو بھی لائے۔

متاثرہ خاتون کو ملزم رفیق نے خیر اللہ بگٹی نامی شخص کے پاس جانے کے لیئے کچھ پیسے بھی دیئے اور اسکی بچی کو بھی یرغمال بنا لیا۔خیر اللہ بگٹی نے بھی خاتون کو درندگی کا نشانہ بنایا۔
تاہم ملزم رفیق نے خاتون کی پانچ سالہ بچی کو رہا کرنے کے لیئے یہ شرط عائد کر رکھی تھی کہ وہ کسی اور خاتون کو کراچی سے لائے اور اپنی بیٹی لے جائے۔پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ پولیس نے ملزم رفیق پر گرفت کرنے کے لیئے خاتون کا استعمال کیا ۔ایک خاتون کی جانب سے ملزم رفیق کو کال کی گئی اور وہ اس خاتون سے ملنے ایک پارک میں آیا جہاں پولیس نے ملزم رفیق کر گرفتار کرلیا۔پولیس کے مطابق ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ماں اور بیٹی کو کئیں روز تک درندگی کا نشانہ بناتا ہے۔پولیس کی جانب سے خیر اللہ بگٹی کی گرفتاری کے لیئے بھی چھاپے مارے گئے مگر گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔

تبصرے