جج سزائے موت سنانے کے بعد پین کی نب کیوں توڑ دیتا ہے؟

جج سزائے موت سنانے کے بعد پین کی نب کیوں توڑ دیتا ہے؟
جج سزائے موت سنانے کے بعد پین کی نب کیوں توڑ دیتا ہے؟

موت کی سزا ایک تکلیف دہ عمل ہے لیکن یہ ایک زندہ حقیقت ہے اور یہ سزا سنگین جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو ہی دی جاتی ہے۔ آ پ نے اکثر فلموں اور ڈراموں یا حقیقت میں بھی ایسا دیکھا ہو گاکہ جب جج صاحبان کسی ملزم کو موت کی سز ا سناتے ہیں اور موت کے پروانے پر فیصلہ لکھتے ہیں تو

اپنے پین کی نب کو توڑ دیتے ہیں۔ عدالتوں میں برطانوی راج سے رواج شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ پین کی نب توڑ نے کی کئی وجوہا ت ہیں ایک تو یہ ہے کہ وہ پین جو کسی کی زندگی کے خاتمے کا فیصلہ کرے، وہ کسی دوسرے فیصلے کے لیے استعمال نہ ہو۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ

جب جج ایک بار کسی کو موت کی سزا سنا دے اور لکھ دے تو فوری طور پر رد عمل کی صورت میں اپنے حکم پر نظر ثانی نہ کرسکے اور نہ ہی فوری طور پر فیصلے کو منسوخ کر سکے۔ سزائے موت چونکہ ایک دردناک سزا ہے اس لیے جج جب یہ سزا کسی مجرم کو سناتا ہے تو دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بھی پین کی نب کو توڑا جاتا ہے۔

پین کی نب کو توڑنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جج دوبارہ اس خونی پین سے دور رہ سکے اور اپنے دیے گئے حکم پر کبھی شرمندہ نہ ہو کیونکہ اُس نے جو کچھ کیا وہ قانون کے مطابق تھا۔ اردو ٹرینڈز کے مطابق یہ وہ چند وجوہا ت ہیں جن کی بنا پر ججز موت کی سزا سنانے کے بعد پین کی نب کو توڑ دیتے ہیں۔

تبصرے