غریب لڑکی کی ننھی سی خواہش

غریب لڑکی کی ننھی سی خواہش
غریب لڑکی کی ننھی سی خواہش

ایک آٹھ سال کی معصوم سی غریب لڑکی بک اسٹور میں جاتی ہے اور ایک پنسل اور ایک دس روپے والی کاپی خریدتی ہے اور پھر وہیں کھڑی ہو کر کہتی ہے کہ انکل ایک کام کہوں،کرو گے؟ دکاندار جواب دیتا ہے کہ جی بیٹا بولو کیا کام ہے؟ انکل وہ کلر پنسل کا پیکٹ کتنے کا ہے؟

مجھے چاہیے، ڈرائنگ کی ٹیچر بہت مارتی ہیں مگر میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں نہ ہی امی ابو کے پاس ہیں، میں آہستہ آہستہ کر کے پیسے دے دوں گی۔ دکاندار کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور بولتا ہے کہ بیٹا کوئی بات نہیں یہ کلر پنسل کا پیکٹ لے جاو لیکن آئندہ کسی بھی دکاندار سے اس طرح سے کوئی چیز مت مانگنا، لوگ بہت برے ہیں، کسی پر بھروسہ مت کیا کرو۔ جی انکل بہت بہت شکریہ۔۔

میں آپ کے پیسے جلد دے دوں گی اور پھر وہ وہا ں سے چلی جاتی ہے۔ اُدھر دکاندار یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے اگر ایسی پچیاں کسی وحشی دکاندار کے ہتھے چڑھ گئیں تو زینب اور علیشا کا ساحال ہی ہوگا۔ ٹیچرز سے گزارش ہے کہ خدارا اگر بچے کوئی کاپی پنسل وغیرہ نہیں لا پاتے تو جاننے کی کوشش کیجئے کہ

کہیں اس کی غربت اس کے آڑے تو نہیں آرہی، اور ہو سکے تو ایسے معصوم بچوں کی تعلیم کے اخراجات آپ ٹیچر حضرات مل کر اٹھا لیا کریں۔ یقین جانیں ہزاروں لاکھوں کی تنخواہ میں سے چند سو روپے کسی کی نہ صرف زندگی بچا سکتے ہیں بلکہ سنوار بھی سکتے ہیں۔اس پوسٹ کو زیا دہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ معصوم بچوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔

تبصرے