زلیخا نے اپنی غلطی کا اعتراف کیسے کیا اور کیوں؟

زلیخا نے اپنی غلطی کا اعتراف کیسے کیا اور کیوں؟
زلیخا نے اپنی غلطی کا اعتراف کیسے کیا اور کیوں؟

عزیز مصر کی بیوں وہاں موجود تھی بادشاہ اور زنان مصر کی باتیں سن رہی تھیں بغیر اس کے کہ کوئی اس سے سوال کرے،ضبط نہ کر سکی اس نے محسوس کیا کہ اب وہ موقع آگیا ہے کہ ضمیر کی سالہاسال کی شرمندگی کی یوسف کی پاکیزگی اور اپنی گنہاگاری کے ذریعے تلافی کرے،خصوصا جب کہ اس نے یوسف علیہ السلام کی بے نظیر عظمت کو اس پیغام میں دیکھ لیا تھا جو انہوں نے بادشاہ کو بھیجا تھا دیکھ لیا کہ اپنے پیغام میں انہوں نے اس کے بارے میں تھوڑی سی بات بھی نہیں کی اور اشارتا صرف زنان مصر کے بارے میں بات کی ہے اس کے اندر گویا ایک ہلچل مچ گئی “وہ چیخ اٹھی:اب حق آشکار ہوگیا ہے میں اس سے خواہش پوری کرنے کا تقاضہ کیا تھا وہ سچا ہے”

سورہ یوسف(۱،۲)
اور میں نے اس کے بارے میں اگر کوئی بات کی ہے تو وہ جھوٹ تھی،بالکل جھوٹ تھی۔

(سورہ یوسف۳)
زلیخا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:میں نے یہ صریح اعتراف اس بنا ء پر کیا ہے کہ
تا کہ یوسف کو معلوم ہوجائے کہ میں اس کی غیبت میں اس کے بارے میں خیانت نہیں کی

در حقیقت زلیخا نے یوسف کی پاکیزگی اور اپنی گنہاگاری کے صریح اعتراف کے لیئے دو دلیلیں قائم کیں۔
پہلی یہ کہ اس کا ضمیر اور احتمالا یوسف سے اس باقی ماندہ لگاؤ اسے اجازت نہیں دیتا اور اسی لیئے محلوں کی پر خواب زندگی کے پردے آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹ گئے اور وہ زندگی کی حقیقتوں کوسمجھنے لگی کے خصوصا عشق میں شکست نے اس کے افسانوی غرور پر جو ضرب لگائی اس سے اس حالت میں تعجب کی بات نہیں کہ وہ اس طرح کا صریح اعتراف کرے اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا:اسکی نگاہ حقیقت اور کھل گئی۔

میں ہر گز اپنے نفس کی برائت کااعلان نہیں کرتی کیونکہ میں جانتی ہوں کہ یہ نفس امارہ مجھے برائیوں کا حکم دیتا ہے،مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے۔ (سورہ یوسف ۶)

تبصرے