وزیر اعظم صاحب اسلام آباد پے دم کرادیں شاید اسلام آبادکو آرام آجائے

وزیر اعظم صاحب اسلام آباد پے دم کرادیں شاید اسلام آبادکو آرام آجائے
وزیر اعظم صاحب اسلام آباد پے دم کرادیں شاید اسلام آبادکو آرام آجائے

حالیہ دنوں میں ملک پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں بڑھتے جرائم نے سبھی کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔دن دیہاڑے ڈکیتی ،راہزنی اور قتل جیسے واقعات معمول بن چکا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کا دارالحکومت ہمیشہ پر سکون رہتا ہے وہاں جرائم میں اضافہ ہو تو فوری قابو پالیا جاتا ہے سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہوتے ہیں اور پھر ایسے میں کوئی جرائم پیشہ افراد متحر ک ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

مگر پاکستان کے شہر اقتدار اور دنیا کے خوبصورت شہروں میں شمار ہونے والا اسلام آباد جرائم پیشہ افراد کی زد میں ہے آئے روز دوکانوں اور شہریوں کو لوٹنے کے واقعات کس اخبار یا خبر کا حصہ نہ بنے؟مگر کم نہ کیا جا سکا ۔افواج پاکستان کا حاضر سروس جوان بھی اسلام آباد میں ڈکیتی کی زد میں آکر ڈاکوئوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتا ہے ۔ٹرک ڈروائیور کو گولیاں مار دی جاتی ہیں جیولری شاپ لوٹ لی جاتی ہیں اور پھر بے قصور جوان اسامہ کو جوانی میں ہی ابدی نیند کوئی اور نہیں بلکہ وہ جو محافظ ہیں ہمارے وہی سلا دیتے ہیںاور یہ سب ہورہاہے اسلام آبادمیں مگر لگتاہے وزیر اعظم پاکستان کو اس شہر کی کوئی خبر نہیں یا پھر وہ اپوزیشن کو کس طرح جواب دینا ہے اس کی منصوبہ بندی کرنے میں اپنے ترجمانوں کے ساتھ لگے بیٹھے ہیں۔

ریاست مدینہ کے نفاذ پر یقین رکھنے والے وزیر اعظم صاحب ا ک نظر کرم اسلام آباد میں کر لیجئے زیادہ نہیں تو کچھ پڑھ کر پڑھا کر شفاء والی پھونک ہی مار دیجئے یا مروا دیجئے کیونکہ شہر میں انتظامیہ سے کام کرانا آپ کے بس کی بات نہیں کیونکہ اب یہ اسلام آباد کے شہری خود کو غیر محفوظ کرنے لگیں ہیں ۔

تبصرے