24000فٹ بلندی سے کریش ہونے والا جہاز- تاریخ کا دل دہلا دینے والا واقعہ

24000فٹ بلندی سے کریش ہونے والا جہاز- تاریخ کا دل دہلا دینے والا واقعہ
24000فٹ بلندی سے کریش ہونے والا جہاز- تاریخ کا دل دہلا دینے والا واقعہ

28اپریل 1988کی دوپہر ایک بج کر پچیس منٹ پر الوہا ائیر لائنز کے ایک نوئنگ 737جہاز نے امریکی ریاست ہوائی کے ائیر پورٹ سے اُڑان بھری اور اِس کو ہوائی کے ہی ایک جزیرے ہانا میں جانا تھا۔یہ ایک انیس سال پرانا جہاز تھا۔یہ ایک سو بانوے بوئنگ 737ائیر فریم تھا۔یہ 1969میں بنایا گیا تھااور ایک نئے طیارے کے طور پر الوہا ائیر لائن کو پہنچایا گیا تھا۔

اس کی رجسٹریشن N73711تھی۔ اِس پرواز سے پہلے بھی اُسی دن تین ڈومیسٹک پلائٹس کامیابی سے کر چکا تھا۔موسم بھی باکل نارمل تھا اور اِ س فلائٹ کے دوران بھی کچھ ایسا نہیں ہوا جو کہ الارمنگ ہو۔جہاز کا کیپٹن 44سالہ روبرٹ جو 8500فلائٹس گھٹنوں کا تجربہ کار پائلٹ تھا۔جہاز کا پائلٹ کیپٹن روبرٹ اور فرسٹ آفیسر 36سالہ میڈیلین دونوں ہی کافی ماہر تھے۔ کیپٹن روبرٹ کو بوئنگ 737کی ہی پرواز کا 67فلائٹس گھنٹوں کا تجربہ تھااور اِس جہاز کو اُڑان بھرنے سے پہلے پوری طرح چیک بھی کیا گیا تھا۔

اس جہاز میں 95مسافر سوار تھے جن میں دو لوگ جہاز کے پائلٹس، تین فلائٹ اٹنڈنس، ایک پیٹرل آفیسر اور باقی مسافر تھے۔ جہاز نے باکل نارمل انداز میں ٹیک آف کیا اور جلد ہی چوبیس ہزار فٹ کی بلندی پر تیرنے لگا۔ دوپہر ایک بج پر 48منٹ پر پائلٹس کو اچانک ایک دھماکے کی آواز اور تیز ہوا کی سنسناہٹ سنائی دینے لگی جو آہستہ آہستہ مسافروں کی چیخ وپکار میں بدل گئی۔چھت کے بائیں جانب ایک چھوٹا سا حصہ آواز کے ساتھ پھٹ گیا۔ کیپٹن کو ہوائی جہاز کا رول بائیں اور دائیں طرف محسوس ہوا اور کنٹرول ڈیلے ہوگئی۔

پائلٹ کو تو پہلے کچھ سمجھ نہ آیا مگر جیسے ہی اُس نے اپنا سر گھومایاتو اُس کے پاوں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔اِس نے دیکھا کہ پائلٹ سائیڈ کا دروازہ اور جہاز کی چھت دونوں ہی غائب ہو چکے تھے اور نیلا آسمان صاف دیکھائی دے رہا تھا۔ہوا کچھ ہوں کہ جب جہاز کے فیوز میں ایک چھوٹا سا سوراخ پہلے سے موجود تھا۔جس کیوجہ سے جہاز میں ہوا کا دباؤ خطرناک حد تک بڑھ گیا اور پھر ایک دھماکے سے جہاز کی چھت کا ساڑھے سترہ فٹ کا لمبا ٹکڑا اُڑ گیا۔سب مسافروں نے سیٹ بیلٹ باندھ رکھی تھی مگر ایک بدقسمت فلائٹ اینڈنٹ جو کہ بلاسٹ والی جگہ کے پاس موجود تھی۔ پرواز کے دوران دھماکہ خیز آلودگی کے بعد اُس فلائٹ اینڈنٹ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچاتھا۔

وہ آسمان کی طرف کہیں غائب ہوگئی۔اُس کی لاش کبھی نہ ملی۔ سیٹوں پر بیٹھے مسافر نے اپنے آکسیجن ماسک بھی پہن لیے تھے اور جہاز ہوا کے دباؤ کی وجہ سے آوٹ آف کنٹرول ہوتا جارہا تھا۔یہ اب کسی بھی لمحے کریش ہونے والا تھا۔ایسے میں کیپٹن روبرٹ نے جہاز کے آٹو پائلٹ کو آف کر دیا اور جہاز کا کنٹرول خود ہی سنبھال لیا اور اِس نے ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہاز کی سپیڈ کم کردی اور اُس کا رخ ایک قریبی جزیرے ماہوئی کی طرف موڑ دیا۔یہ جہاز اب چودہ ہزار کی بلندی تک نیچے آ چکاتھا۔اب پائلٹ نے گھبراکر کنٹرول ٹاور کو ایمرجنسی کا سگنل دے دیامگر جہاز کا رُخ جزیرے ماہوئی کی طرف ہی رکھا۔

جہاز جب دس ہزار فٹ کی بلندی پر آگیا توائیر پورٹ کا رن وے نظر آنے لگا۔ کیپٹن روبرٹ نے اپنا آکسیجن ماسک اتارا اور ایمرجنسی بریکز کو اینگیج کردیاتاکہ جہاز کی سپیڈ کم ہوجائے۔ساتھ ہی روبرٹ نے لینڈنگ گیئر بھی لگا دیا لیکن جلد ہی اُسے احساس ہوا کہ جہاز کی ایمرجنسی بریکز فیل ہوچکی تھی۔ساتھ ہی جہاز کا بائیں طرف کا ایجن بھی جواب دے چکا تھا۔ کیپٹن نے ایجن کو دوبارہ چلانے کی بھرپور کوشش کی لیکن

ناکام رہا۔جہاز اب رن وے کے پاس آچکاتھا یعنی دس منٹ تک زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کے بعد فلائٹ243نے بالآخر جزیرے کے چھوٹے سے رن وے کو چھو لیا مگر جہاز کی بریک فیل ہونے کی وجہ سے جہاز کا کریش ہونا ابھی بھی لگ بگ طے تھا۔کیپٹن روبرٹ نے ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہاز کے اکلوتے ایجن کی موٹرز کو الٹا گھومایا جس سے جہاز کی سپیڈ کم ہونے لگی اور بالآخر اِن لوگوں کے صبر کا امتحان ختم ہوگیا۔ جہاز باحفاظت رک گیااور مسافر وں کو جہاز سے جلدی سے نکال لیا گیا۔

جہاز کے 65زخمی مسافروں کو ہسپتال پہنچانے کے لیے صرف دو ایمبولینس موجود تھیں لہذا بسوں کے ذریعے ہسپتال لایا گیا جہاں اِن کا علاج ہوا۔جہاز کی محفوظ لینڈنگ نے ایویشن کی تاریخ میں ایک اہم واقعے کی حیثیت سے اس واقعے کو قائم کیا جس سے ہوا بازی کی پالیسیوں اور طریقے کار پر اثرات مرتب ہوئے۔یہ ایویشن کی تاریخ کا ایک بے حد انوکھا واقعہ تھا جس میں جہاز کی چھت اُڑ گئی، بریکز فیل ہوگئی اور ایجن بھی جواب دے گیامگر پائلٹ کی ذہانت کی وجہ سے سوائے ایک اینڈنٹ کے سب مسافر زندہ بچ گئے۔

تبصرے