پی ایس ایل گانے پر تنقید کیا نئی ہے؟

پی ایس ایل گانے پر تنقید کیا نئی ہے؟
پی ایس ایل گانے پر تنقید کیا نئی ہے؟

پاکستان سپر لیگ جو کرکٹ کی دنیا میں اب ایک برانڈ بنتا جارہا ہے دیگر کرکٹ کی لیگز کی طرح اس میں بھی قومی کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کھلاڑی حصہ لیتے ہیں مختلف ٹیمز بنتی ہیں اور پھر آپس میں مد مقابل ہوتی ہیں۔پاکستان سپر لیگ ہو بگ بیش لیگ ہو آئی پی ایل او تمام کا فارمیٹ ایک ہی طرز کا ہوتا ہے یعنی سبھی لیگز میں بیس بیس اوور ز ہوتے ہیں۔

دیگر لیگز کی طرح پاکستان سپر لیگ کے آغاز ہونے سے قبل خوب ماحول سازی کی جاتی ہے اس ضمن میں لیگ کا آفیشل گانا بھی ریلیز کیا جاتا ہے ۔ہر بار کی طرح اس بار بھی گانا ریلیز کیا گیا اور ہر بار کی طرح اس بار بھی گانے پر تنقید کی جارہی ہے ۔

کسی نے نصیبو لال کے انتخاب پر تنقید کی ہے کہ انہیں اس گانے کے لیئے نہیں لینا چاہیئے تھا تو کوئی یہ کہتا نظر آرہا ہے گانا لکھنے والے نے حق ادا نہیں کیا۔

جتنے منہ اتنی باتیں شاید ہمارے معاشرے میں اب تنقید یا پھر تنقید کیا تضحیک کو استعما ل دن بھر کی طرح خوراک کی طرح لازم ہوتا جارہا ہے۔تنقید بھی وہ کرتے ہیں جنیں گلو کار ی کے گ بھی نہیں پتہ ہوگا اور پھر کھلاڑیوں کی جانب سے اس گانے پر تنقید کرنا سمجھ سے بالا تر ہے بھائی آپ کھلاڑی کے گیند اور بلے کے گانا آپکی فیلڈ نہیں اس لیئے تنقید سمجھ سے باہر ہے ۔

ہر وقت کیمروں کے سامنے رہنے والی فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں نصیبو ہمارالال ہے مگر پی ایس ایل پر انسے گائیگی کروا کر کام غلط لیا گیا۔فروس عاشق اعوان نے شاید اپنی افکار کی نشاندہی کی ہے انہیں

نصیولال کی زبان سے وہ گانے سننے ہیں جو آپ ایک خاندان ایک ساتھ بیٹھ کر نہیں سکتا انکی نظر میں نصیبو کی درست سمت شاید وہی ہو۔

نصیبو لال نے پی ایس ایل کا گانا گا کر ثابت کردیا تجربہ تجربہ ہوتا ہے۔

تبصرے