پوپ فرانسس عراق کیا کرنے آئے تھے؟نا امن ملک کا دورہ کیوں کیا؟

POP Francis Visit Iraq
پوپ فرانسس عراق کیا کرنے آئے تھے؟نا امن ملک کا دورہ کیوں کیا؟

جو بھی دنیا کے بڑے مذہب عیسائی سے متعلق جان پہچان رکھتا ہے وہ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ دین مسیحی میں مذہبی رہنما ایک ہی ہوتا ہے باقی اس سب مذہبی رہنما ء اس کے ماتحت ہوتے ہیں۔مزید آسان کردیتے ہیں جیسے ہمارے ہاں علماء کرام کا سلسلہ ہے اور ہمار ے ہاں ماشاء اللہ سبھی ایک دوسرے سے بڑے عالم ہونے کا دعویدار ہے امت کیا بھاگ دوڑ کے لیئے کو ن سا عالم قیادت کرے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔

دینی مسیحی میں ایسا ہی ہوتاہے یہاں جتنے بھی پادری ہیں وہ سب اپنے منتخب بڑے پو پ کے ماتحت ہوتے ہیں۔تمام کلیساؤں میں کیا نصاب ہوگا کیا نہیں،کس پر کیا موقف اپنانا ہے یہ پوپ ہی بتائے گا اور انہیں کا بتایا ہوا سبھی اپنی زبان سے دہرائیں گے۔

اب آتے ہیں پوپ فرانسس جنکاشمار ایسی شخصیات میں ہوتا ہے جو بہت ہی کم لوگوں سے ملاقات کرتے ہیں اگر انہیں کسی سے بھی ملاقات کرنی بھی ہو یا پھران سے کسی نے خود ملنا ہو تو اپنے حجرے میں ہی ملتے ہیں۔البتہ یہ بات بھی یاد رہے کہ پوپ فرانسس دیگر روم سے باہر قدم رکھتے ہیں اور ان ممالک میں جاتے ہیں جہاں انکے مذہب کے پیروکاروں کی تعداد ہوتی ہے وہاں کے چرچ کا دورہ کرتے ہیں اور میسحت کے پیروکارانکی زیارت کرتے ہیں جن میں مزید مذہبی جوش پیدا ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ پوپ فرانسس نے عراق کے دورے کا فیصلہ کیوں کیا؟وہ بھی ایسے ملک جو کہ ناامنی میں سر فہرست ہے۔آئے روز امریکہ کی چھاؤنی کو نشانہ بنایا جاتا ہے ہو،جگہ جگہ خود کش دھماکے ہوں وہاں دنیا کے بڑے مذہب کا وہاں کا دورہ کرنا متعدد سوالات کو جنم دیتا ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں پوپ فرانسس کا دورہ اور عراق کے سب سے بڑے مذہبی رہنماء آیت اللہ سیستانی سے ملاقات اپنے اندر بہت سارے مقاصد رکھتی ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد امریکہ کا پیغام لانا تھا اور وہ یہ پیغام کے عراق اپنی عسکری تنظیموں کو ختم کردے جنہوں نے داعش کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا جن میں حشد الشعبی اہم ترین ہے اور ملاقات کا مقصد یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ عراق،ایران سے اپنے مراسم کو محدود یا کم کرے یا پھر کوئی ایسی مشترکہ ڈیل کرلی جائے تحریری طور پر،یہ بھی سامنے آیا ہے کہ آیت اللہ سید علی سیستا نی کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے تحریری طور پر کچھ نہیں کریں گے یہ تو ملاقات کا اہم نکات ماہرین بیان کرر ہے ہیں۔

یہ پیغام کس کا تھا؟ظاہر ہے یہ پیغام امریکہ کا ہی ہوسکتا ہے،مگر امریکہ کیوں؟اسکا جواب یہ ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں ایک نئی پیدائش چاہتا ہے جس کے لیئے عرصہ دراز سے منصوبے بنائے گئے داعش کی صورت میں صدام کی صورت میں مگر ناکام ہوئے۔پھر یہ سوجھ امریکہ کو آئی کہ تمام عرب ممالک کو اسرائیل کے قدموں میں بیٹھا دیا جائے اور پھر سب نے دیکھا ایسا ہی ہوا۔مگر پھر بھی جیسے مشرق وسطی امریکہ چاہتا ہے وہ نہیں بن پارہا،ایسے مشرق وسطی کا وجود جس میں اسرائیل کو کوئی خطرہ نہ ہو،یہ تمام تر منصوبے کون ناکام کردیتا ہے؟ایران،اسکا جواب ہے۔

عراق،ایران کے ساتھ اپنے تعلقات محدود یا ختم کرے یہ بہت بڑا منصوبہ ہے اس لیئے اس کے لیئے اہم کھلاڑی منتخب کیا گیا اور وہ تھے پوپ فرانسس۔

عراق میں داعش کے ذریعے کتنا خونی کھیلا گیا،اسرائیل نے فلسطین میں ظلم کے کتنے پہاڑ توڑے،کیا پوپ فرانسس کی جانب سے مذمتی بیان سامنے آیا؟اسکا جواب جس کے پاس ہے تو دے دے ہمارے پاس تو نہیں،اسکا جواب ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات پچپن منٹ ملاقات ہوئی اس ملاقات کا اعلامیہ اب تک نہیں جاری ہوا۔دلچسپ بات یہ بھی ہے اس ملاقات میں کوئی عراقی حکومت کا نمائندہ موجود نہ تھا۔مزید حقائق کیا تھے اس دورے پیچھے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

تبصرے