کوئی بھوکا نہیں سوئے گا ،نیا پروگرام آگیا

کوئی بھوکا نہیں سوئے گا ،نیا پروگرام آگیا

ملک پاکستان میں موجود ہ حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہے اور اس حکومت میں وزیر اعظم،عمران خان ہیں جنکا یہ عزم ہیں کہ اس ملک کو ایک فلاحی ریاست بنائی جائے اور اس ضمن میں انہوں نے متعدد اقدامات کیئے بھی ہیں جن میں ملک کے مختلف علاقوں میں پناہ گاہیں،احساس پروگرام اور اب کوئی بھوکا نہیں سوئے گا جیسے پروگرام کا انعقاد۔

حکومت کے حالیہ پروگرام کوئی بھوکا نہیں سوئے گا کی بات کرتے ہیں اس پروگرام میں تین کروڑ کے لوگوں کو براہ راست سبسڈی دی جائے گی اور اس پروگرام کے تحت موبائل وین کے ذریعے مزدور طبقوں میں کھانا فراہم کیا جائیگا۔

اب اس حکومت کے فلاحی پروگرام کا جائزہ لیتے ہیں اس عارضی عمل سے کیا ہوگا؟مزدوروں کو کھانا ملے گا،جنہیں کھانا ملے گا وہ کیا چاہتے ہیں؟یہ سوال تو اہم ترین ہے ۔ایک عوامی سروے آپ کروالیجئے مزدور یہ کہتا ہے کہ ہمیں کھانا مت دو مگر روزگار دو ،روزگار ہوگا تو باعزت طریقے سے خود اور اپنے بچوں کو کھانا کھلائیں گے اور حقیقت بھی یہی ہے جتنا بجٹ حکومت نے اس کام میں رکھا ہے اگر وہی تمام تر وسائل لوگوں کو روزگار کے مواقع مہیا کرنے میں کیا جائے تو حرج کیا ہے؟یا پھر یہ حکومت کی ترجیح نہیں ہے؟بھو ک و افلاس میں زندگی گزارنے کرنے والا پاکستان کا طبقہ یہ نہیں چاہتا آپ ان میں لنگر تقسیم کریں آپنے فلاحی کام کرنا ہے تو چین سے سیکھیئے،ہمارے وزیر اعظم تو اپنی تقاریر میں متعدد بار چین کے نظام کی بات کرتے ہیں انکے نظام سے متاثر ہوئے نظر آتے ہیں مگر یہ باتیں تقاریر کی حد تک ہی کیوں؟آج چین نے اپنی آبادی کو غربت کی لکیر سے نکال باہر کردیا ہے مگر ہمارے ہاں ،لنگر خانے بن رہے ہیں اور لنگر تقسیم کیا جارہا ہے۔
ہر حکومت چاہتی ہے اس کے شہریوں کے باسی خود مختار بنیں، خود بھی کمائے اور ملکی زرمبادلہ میں بھی اضافہ کریں مگر یہاں گنگا الٹی ہی بہ رہی ہے۔

فلاحی کام لوگوں کو روزگار دینا بھی تو ہو سکتا ہے تا کہ باعزت طریقے سے اپنارزق کما سکیں ۔آپکی حکومت میں سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے ۔لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں۔ کم سے کم ترین معاوضے پر کام کرنے پر مجبور ہیں ۔مگر آپ ترجیحات سے ہٹ کر فلاحی کام کر رہے ہیں او ر وہ بھی عارضی۔

تبصرے