اس بار سرمایہ داروں کو ڈرایا گیا

Paksitan Stock Exchange Attack
اس بار سرمایہ داروں کو ڈرایا گیا گیا

کل کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج عمارت پر ہونے والے حملے کو سیکیورٹی اداروں نے ناکام بنا دیا ۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں چار دہشتگردوں نے حملہ کیا جسے سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا یا

اس واقعے کے بعد متعدد سوالات نے جنم لیا ہے اسکی وجہ یہ ہے عموما دہشتگردوں کا ہدف انسانی جانیں ہوا کرتی ہیں اس لیئے وہ کسی ایسی جگہ کو ہدف بناتے ہیں جہاں لوگوں کا ہجوم ہو۔مگر اس با ر سر زمین پاکستان کے دشمنوں نے اپنا ہدف لوگ نہیں بلکہ اس ملک کے معاشی مرکز کو بنایا ہے ۔مگر کیوں؟یہ بات صاف ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کرنے والے سلیپر سیلز تھے جنہیں استعمال کیا گیا مگر کس نے، اور کیوں؟یہ بات بھی کوئی زیادہ پہیلی نہیں ہے کون نہیں چاہتا پاکستان کی معیشت سنبھل جائے؟ کو ن نہیں چاہتا پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے ؟ یقینا یہ بھارت ہی ہے ۔

کسی بھی ملک میں معاشی مرکز کو نشا نہ اس لئے بنایا جاتا ہے تا کہ وہاں سرمایہ کاروں کو ڈرایا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی وجہ ہوتی ہے کہ اس ملک میں سرمایہ کاری نہ ہو اور نہ ہی معیشت سنبھل سکے۔
عموما سرمایہ کار کچھ عرصے کے لیے بہت محتاط ہو جاتے ہیں جس کا اثر یقینی طور پر معیشت پر پڑتا ہے۔ ’سرمایہ کاروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سکیورٹی کے حوالے سے بہت حساس ہوتے ہیں اور پرندوں کی طرح ہوتے ہیں اور اگر انھیں تھوڑا سا بھی شبہہ ہو جائے کہ وہ سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔

بظاہر توا س حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی کی ’مجید بریگیڈ‘ نامی تنظیم نے قبول کی ہے۔ بی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حملے کا مقصد پاکستان کی معیشت کو نشانہ بنانا تھا۔ پاکستان کی معیشت بلوچ قوم کی 72 سالہ استحصال اور نسل کشی پر کھڑی ہے اور کراچی سٹاک ایکسچینج اسی استحصالی معیشت کی ایک بنیاد اور علامت ہے۔

لیکن یہ ذمہ داری علامتی ہے اس کے پس پردہ کون ہیں یہ سبھی جانتے ہیں ۔

تبصرے