بھکاری، کاروباری اور ہمارا پاکستان

پاکستان میں بھیگ مانگتے بچے اور عورتیں
پاکستان میں بھیگ مانگتے بچے اور عورتیں

گزشتہ کئی سالوں سے ملک مختلف مسائل کا شکار ہے۔ بہت سے مسائل سیاسی سماجی اور مذہبی ایوانوں میں زیر بحث ہیں۔کچھ ایسے بھی ہیں جو التواءمیں پڑے ہیں۔ جن پر بحث ہوتی ہے اور نہ ہی انکا حل نکلتا ہے۔ آج پاکستان کو درپیش ایک ایسے ہی مسئلے پر بات کرتے ہیں جو ہر گزرتے دن کے ساتھ پاکستان کے لئے ایک سنگین صورتحال کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اورپاکستان کے باسیوں کے لئے ایک سوالیہ نشان کے ساتھ ساتھ نا صرف گزشتہ حکومتوں بلکہ موجودہ تبدیلی کے منہ پر بھی ایک زوردار طمانچہ ہے۔ جسکی آواز “اللہ کے نام پر دے دو بابا” اور ” معاف کرو بابا” جیسے دلخراش سروں کے آہنگ میں سنائی دیتی ہے۔ ایشائی کمیشن برائے انسانی حقوق کے ایک سروے کے مطابق پاکستان کے بڑے شہروں میں 1.2 ملین بچے بھیک مانگ رہے ہیں۔ سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد 25 ملین سے زائد ہے۔جن کے بارے میں وثوق سے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ سب کے سب بھکاری ہیں یا کاروباری؟ سماجی اخلاقی اور مذہبی اقدار میں بھیک مانگنا انسانیت کی حددرجہ پستی کی زندہ نظیر ہے۔ جو پاکستان کے ہر گلی کوچے،شہر ، دیہات چوباروں اور بازاروں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ البتہ پاکستانی سیاست اور سیاستدان ان تمام اقدار سے مستثنیٰ ہیں۔ 1958 میں بھکاریوں کے لئے مخصوص آرڈیننس پاس کیا گیا جس پر عملدرآمد کا اندازہ بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اس آرڈیننس کے مطابق بھکاریوں کے فلاحی مراکز قائم کیئے جائیں گے جہاں پر انکی باقاعدہ تعلیم و تربیت کا نفاذ ممکن بنایا جائے گا۔ علاوہ ازیں پولیس کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ کسی بھی بھکاری کو حراست میں لے کر کاروائی کو آگے بڑھائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان تمام اقدامات پر عملدرآمد کیا گیا؟ اگر ہاں! تو پاکستان میں اسوقت بھکاریوں کے لئے گزشتہ تمام حکومتوں کی جانب سے کتنے ادارے متحرک ہیں؟ 1958کے بعد آنے والی گزشتہ تمام حکومتوں اور موجودہ حکومت نے بھکاریوں کے خلاف اور بھکاریوں کے حق میں کیا خاطر خواہ اقدامات کئے؟ ہماری پولیس اس ٹارگٹ میں کس حد تک کامیاب ہو سکی؟ بطور شہری کیا ہم نے اپنے معاشرے سے اس لعنت کو ختم کرنے کے لئے کوئی مثبت قدم اٹھایا؟ 2014 میں پنجاب حکومت کی جانب سے بھکاریوں کے لئے ایک بحالی مرکز قائم کیا گیا جہاں صرف پچاس کے لگ بھگ بھکاریوں کے لئے انتظامات کئے گئے گزرتے وقت کے ساتھ اس بحالی مرکز میں مزید کیا بہتری لائی گئی؟بھکاریوں کی تعلیم وتربیت اور انہیں خود مختار بنانے کے لئے جو اقدامات کئے گئے انکے اعدادوشمار کون سی فائل میں پڑے خشک ہو رہے ہیں واللہ عالم۔۔!

بھیک مانگنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں چند این جی اوز کے علاوہ کوئی بھی ایسا حکومتی ادارہ موجود نہیں جو لاورث بچوں اور عورتوں کے نان نفقے کی ذمہ داری لینے میں پوری طرح سرگرداں نظر آتا ہو۔2019 بیگری بل بھی اس معاملے میں سود مند ثابت نہ ہو سکا۔ ہماری پولیس ناصرف بھکاریوں بلکہ بھکاری کے روپ میں موجود کاروباریوں کی گردن پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی اس کی وجہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے اس بھکاری مافیا کی پشت پناہی ہمارے انہی اداروں کے معززین کے ہاتھوں میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس مافیا کی رسائی اور سنوائی گھروں میں بیٹھے شرفاءسے کئی زیادہ ہے۔ گلیوں میں یہ بھیک مانگتے 1.2 ملین سے زائد بچے صرف بھکاری نہیں بلکہ پاکستان کا مسقبل ہیں جو آنے والے وقت کا سب سے بڑا المیہ ہیں۔

تحریر انیقہ عباسی

نوٹ:اردو ٹرینڈز کا اور اسکی پالیسی کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی کوئی تحریر لکھنا چاہتے ہیں تو لکھیں اور ہمیں ہمارے ای میل ایڈریس پر اپنی مکمل معلومات جن
میں اپنا مختصر مگر جامع تعارف اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی سوشل میڈیا آئی ڈیز کے لنک بھی بھیجئے

Email: urdutrends1@gmail.com

بھکاری، کاروباری اور ہمارا پاکستان” ایک تبصرہ

  1. اچھی تحریر ہے۔ ایک اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔

تبصرے