پاکستان کی یتیمی کے چار سال

عبدالستار ایدھی کو گزرے چار سال بیت گئے
عبدالستار ایدھی کو گزرے چار سال بیت گئے

یوں تو کہنے کو ہم سبھی اشرف المخلوقات ہیں۔ ہم سبھی کو خلیفہ خدا ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اشرف المخلوقات کے امتحان میں پاس ہونے کے بعد جب خدا کسی کو اپنا حقیقی نائب مقرر کر کے اسے انسانیت کا بلند درجہ عطا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو گوشت اور ہڈیوں کے ڈھانچے کے اندر درد دل کی پوٹلی رکھ دیتا ہے۔ پیغمبری کا سلسلہ رک گیا،مگر خدا نے ولایت،فقیری اور درویشی نہیں روکی ۔
آج 8جولائی 2020 ہے۔ پاکستان کو یتیم ہوئے آج چار سال بیت گئے۔۔!!
آٹھ جولائی 2016،تاریخ میں محفوظ یہ وہ تاریخ ہے کہ جب ہم نے ایک ایسے انسان کو کھو دیا جسے ہم نے پاکستان کی سڑکوں پہ دوسروں کے لئے ہاتھ پھیلاتے ہوئے دیکھا جو تن کا فقیر اور من کا بادشاہ تھا۔ پاکستان میں بے شمار ایسے غیر حکومتی ادارے موجود ہیں جو بے سہاروں کے لئے نعمت عظمی سے کم نہیں۔ جن میں ایدھی فاونڈیشن سر فہرست ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے لے کر اب تک انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔ ایدھی فاونڈیشن ایک ایسا ادارہ جسکی بنیاد عبد الستار ایدھی نے ذاتی خواہش، یا ایصال ثواب کی بجائے درد انسانیت پہ رکھی۔ایدھی فاونڈیشن پاکستان کا وہ غیر حکومتی ادارہ ہے جسکی شروعات ایک کمرے پر مشتمل ڈسپنسری سے ہوئی جہاں لوگوں کی امداد کا سلسلہ ذاتی جیب خرچ سے شروع ہوا۔بیماروں کو مفت ایمبولینس سروس کی شروعات ایک ایسی گاڑی سے ہوئی جسکے ڈرائیور عبدالستار ایدھی خود تھے۔ عبدالستار ایدھی نے زندگی بھر اپنے نام کا بھرم رکھا اور یہ ثابت کر دکھایا کہ وہ واقعی اس لائق تھے کہ خدا انہیں اپنا حقیقی نائب مقرر کر کے انسانیت کے بلند درجے سے نوازتا۔ ایدھی فاونڈیشن ناصرف پاکستان میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے بلکہ پاکستان سے باہر بھی انسانیت کا درس دینے میں پیش پیش رہی۔ یہی وجہ ہے کہ گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی اسکے کارناموں کی مہر ثبت ہے۔ ایدھی کی وفات سے ہونے والے خسارے کا اندازہ نہ تو ہم قلم سے لگا سکتے ہیں نہ ہی چند درد بھرے تعریفی اور تعزیتی کلمات سے۔ اگر اس خسارے کا اندازہ لگانا ہے تو ایدھی کی تمام شاخوں میں موجود ان بے آسرا چہروں پہ ایک نگاہ ڈالنی ہوگی جنہیں ایدھی نے کچرے کے ڈھیر، فٹ پاتھ، ریل کی پٹری اور اکیلے بند کمروں سے اٹھا کر ایدھی ہوم کا حصہ بنایا اور انہیں زندگی کے ایک نئے باب سے روشناس کروایا۔
انسانیت کے باب میں ایدھی کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا شاید نہ پورا ہوسکے کیونکہ لگتا ہے ایدھی کے چلے جانے سے وہ خلا بھی شاید چلا گیا۔ یتیموں ،بیواﺅں اوردردمندوں کے درد کا مداوا کرنے والے ایدھی کی موت کے خسارے کا اندازہ اگر لگاناہے تو بے بسی سے رُلتی بے سروسامان زندگیوں کی آنکھوں سے لگایا جا ئے۔ اس خسارے کا اندازہ کوڑے کے ڈھیر پر پڑے بچوں کی سسکیوں سے لگایا جا ئے۔ غربت اور تنگدستی کے ہاتھوں لٹنے والوں کے حالات سے اس خسارے کا بخوبی اندازہ لگایا جائے ۔جو چیخ چیخ کر اپنی یتیمی کی گواہی دے رہے ہیں۔

تحریر انیقہ عباسی

نوٹ:اردو ٹرینڈز کا اور اسکی پالیسی کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی کوئی تحریر لکھنا چاہتے ہیں تو لکھیں اور ہمیں ہمارے ای میل ایڈریس پر اپنی مکمل معلومات جن
میں اپنا مختصر مگر جامع تعارف اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی سوشل میڈیا آئی ڈیز کے لنک بھی بھیجئے

Email: urdutrends1@gmail.com

تبصرے