اندھی پالیسیاں اور عدم اعتماد

اندھی پالیسیاں اور عدم اعتماد
اندھی پالیسیاں اور عدم اعتماد

یوں تو ہماری موجودہ حکومت خود کسی خبر سے کم نہیں لیکن پچھلے کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک خبر کا بہت چرچہ ہے اور وہ خبر ہے” اسلام آباد میں مندر کی تعمیر “اس خبر کے بعد ہماری عوام،سیاسی قیادت سبھی تقسیم نظر آئی،اس خبر کے رد عمل میں کو ئی اس معاملے کے حق اور کسی نے متضاد موقف اپنایا۔اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا معاملہ اتنا بڑھا کہ اسلام آباد ہوئیکورٹ میں بھی اسکی بیٹھک لگ گئی۔شہر اقتدار میں مندر کی تعمیر کے معاملے پر لگی اس عدالت میں کیا ہوا کیا نہیں،یہ داستاں پھر سہی۔البتہ اتنا ضرور یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے صرف ایک مندر کی تعمیر نہیں بلکہ اسکے ساتھ ساتھ 400 مندروں کی بحالی کا حکم نامہ بھی جاری کیا گیا۔

جس طرح بھارت میں مسلمان مذہب کی ایک بڑی جماعت اپنا وجود رکھتی ہے ویسے ہی سر زمین پاکستان میں بھی ہندو مذہب کے لوگ بستے ہیں۔بھارت میں مساجد کی تعداد تین سے چار لاکھ ہے مگر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت آئے روز بڑھتی جارہی ہے اور اس نفرت کا سامنا وہاں کے مسلمان تقسیم ہند کے بعد سے لیکر اب تک کر رہے ہیں۔ 26فروری 2020 کو دہلی میں موجود چودہ مساجد بشمول ایک صوفی درگاہ کو ہندو شدت پسند سوچ کے حامل لوگوں نے جلا دیا جس پر ایک بھارتی صحافی نے دہلی وائلنس میں لکھا کہ”ایودھیا 1992 سے 2020 تک مساجد بی جے پی کی سنجیدہ سیاست کا نشانہ بنی ہوئی ہیں اور یہ مخالفت حکمران حکومت کے لئے ایندھن کا کام دے رہی ہے۔ یعنی کہ بھارتی تاریخ خود اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ ناصرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے جیسے مکروہ عمل کی شروعات بھارت نے کی بلکہ بھارت کئی دہائیوں سے مسلمانوں کے جذبہ ایمانی سے کھیلتا آرہا ہے۔اس سب کے باوجود ہمارے وسیع النظر حکمران، امن اتحاد اور دوستی کا درس دیتے ہیں،چلواچھا کرتے ہیں۔کچھ دیر کے لئے امن کی آشا کے درس کو پلّو سے باندھ کر ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر امن پرست قوم بن کر اسلام آباد میں مندر کی تعمیرکے فیصلے کو درست مانتے ہوئے کچھ نظر گزشتہ دنوں کے فیصلوں پر بھی ڈال لیتے ہیں۔

2002 میں ہونے والے گجرات فسادات جن میں 790 مسلمان مودی کی نفرت اور وحشی سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے۔بدلے میں ہم نے قومی اتحاد اور مذہبی سلامتی کے نام پر 8 اپریل کو 360 بھارتی قیدیوں کو رہا کیا۔چلواچھاکیا۔
1965 کی جنگ میں قید ہونے والے سپاہی مقبول حسین کی چالیس سالہ زندگی بھارتی جیل کی دیواریں چاٹ گئیں یہاں تک کہ مقبول حسین کی زبان کاٹ دی گئی بدلے میں ہم نے ابھی نندن کو عزت اور احترام کے ساتھ بھارتی حدود پہ وداع کر کے ریاست مدینہ کے باب کو آگے بڑھایا،چلو اچھاکیا۔ اجمل قصاب اور حافظ سعید کے معاملے میں ہمیں یو این او میں گھسیٹا گیا اور کلبھوشن یادیو کے معاملے میں ہم ابھی بھی بے بس نظر آرہے ہیں۔دوستی کا ہاتھ بڑھانے اور ملت اسلامیہ کی مثال قائم کرنے کی یہ چند جھلکیاں تھی جنہیں گزرے زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا۔

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر ہونی چاہئے یا نہیں،بحث اس پر نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کون سا عدم تحفظ ہے جو پاکستانیوں کو مندر کی تعمیر کے خلاف آواز اٹھانے پر مجبور کررہا ہے؟کیا مندر کی تعمیر سے اسلام کو کوئی خطرہ ہوگا،نہیں ہر گز نہیں، اگر دینی عبادت گاہوں کے قیام سے ہی مذہب کو خطرہ پہنچنا ہوتا تو آج چار لاکھ مساجد کے ساتھ بھارت میں مقیم مسلمان وہاں اپنی حکومت بنا چکے ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی پاکستانی کو مندر کی تعمیر یا اسمیں ہونے والی عبادت سے خطرہ نہیں بلکہ پچھلے تمام حالات و واقعات اور بھارت کی جانب سے روا رکھے جانے والے سلوک کے جواب میں پاکستانی حکمرانوں کے ردعمل کا یہ نتیجہ نکلا کہ آج پاکستانی قوم اپنی ہی حکومت کے کے فیصلوں سے خوف زدہ ہے۔ کشمیر کے معاملے پر پاکستانی حکومت کی خاموشی نے ہمیں عدم تحفظ کے ساتھ ساتھ عدم اعتماد میں بھی مبتلا کردیا۔بھارت میں 4 لاکھ مساجد ہونے کے باوجود اگر بھارتیوں میں عدم تحفظ نہیں تو اسکی وجہ انکی مضبوط حکومتی پالیسیاں ہیں۔ جبکہ ہمارے عدم تحفظ کی وجہ کوئی دوسرا مذہب نہیں بلکہ ہماری حکومت کی اندرونی اور بیرونی تمام معاملات میں ناکارہ حکمت عملی ہے۔ جس نے پاکستان کو مایوسی اور عدم اعتماد کے کنوئیں میں دھکیل دیا ہے۔ اگر موجودہ حکومت دیگر مذاہب کو انکے حقوق اور تحفظات دینے کا سوچ رہی ہے تو پہلے اپنے پاؤں پہ کھڑی ہو کر اپنی مؤثر پالیسیوں سے پاکستانی قوم کے عدم تحفظ کو بحال کرنا ہوگا۔

تحریر انیقہ عباسی

نوٹ:اردو ٹرینڈز کا اور اسکی پالیسی کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی کوئی تحریر لکھنا چاہتے ہیں تو لکھیں اور ہمیں ہمارے ای میل ایڈریس پر اپنی مکمل معلومات جن
میں اپنا مختصر مگر جامع تعارف اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی سوشل میڈیا آئی ڈیز کے لنک بھی بھیجئے

Email: urdutrends1@gmail.com

تبصرے