متحدہ عرب امارات کو اب الگ نظر سے دیکھیں گے،دبئی آسان ہدف ہوسکتا ہے،ایرانی جنرل

متحدہ عرب امارات کو اب الگ نظر سے دیکھیں گے،دبئی آسان ہدف ہوسکتا ہے،ایرانی جنرل
متحدہ عرب امارات کو اب الگ نظر سے دیکھیں گے،دبئی آسان ہدف ہوسکتا ہے،ایرانی جنرل

مشرق وسطی میں ایک بار پھر کشیدگی خبروں کی حد تک دیکھنے میں آرہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایک بار پھر مشرق وسطی میں جنگ کے بادل بن رہے ہیں

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارا ت کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد ایران اور متحدہ عرب امارات میں شدید کشیدگی دیکھنے کو آرہی ہے۔متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر ایرانی صدر نے اپنے بیان میں اس اقدام کی مذمت کی تھی۔جس پر متحدہ عرب امارات نے ایرانی ناظم الامور کو بلا کر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔
تاہم دونوں ممالک میں لفظی کشیدگی شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ایرانی اخبار کیہان میں سرخی بنی جس میں لکھا گیا کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کر کے خو دکو مزاحمتی حلقوں کے لیئے قانونی اور آسان ہدف بنا لیا ہے۔اخبار میں مزید لکھا گیا کہ متحدہ عرب امارات نے فلسطینیوں کے ساتھ غداری کی اور بچوں کے قاتل صہیونی ریاست سے اتحادکیا۔یاد رہے کیہان اخبار کے چیف ایڈیٹر ایرانی سپریم لیڈ ر آیت اللہ خامنہ آئی تعینات کرتے ہیں

دوسری جانب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل حسین باقری نے کہا کہ اب متحدہ عرب امارات کو ایک الگ نظر سے دیکھیں گے اور خلیج فارس میں کسی بھی کشیدگی میں دبئی کو اس میں شریک سمجھے گے۔

تبصرے