گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنایا جائے،محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے

گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنایا جائے،محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے
گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنایا جائے،محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے

نگران کابینہ کے وزرا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو پانچواں آئینی صوبہ یا عبوری آئینی صوبہ بنایا جائے۔

گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنانے کے حق میں گلگت بلتستان کے وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محمد علی قائد ، یاسین ایڈوکیٹ وزیر قانون، سابق صدر چیمبر آف کامرس حاجی قربان نے اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ الیکشن سے قبل ہی گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنا کر گلگت بلتستان کی 74 سالہ محرومیوں کا خاتمہ کریں۔وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن محمد علی قائد نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عوام 73 سالوں سے بے آئین ہیں اور بنیادی حقوق سے محروم بھی ہیں۔شرکاء کا کہنا تھا کہ 1974 میںگلگت بلتستان کی عوام اور بہادر سپوتوں نے اپنی دھرتی سے ڈوگرا کو مار بھگایا آزادی سے لیکر اب تک شہدا کی ایک لمبی داستان ہے۔ ہمارے ابا و اجداد نے اپنی مدد آپ آزادی حاصل کی اور وہاں اپنی آزاد ریاست قائم کی۔ تاہم پاکستان سے بے لوث محبت اور نظریاتی رشتے کی بنیاد پر قائد اعظم محمد علی جناح کے پاس اپنا نمائندہ بھیج کر غیر مشروط طور پر الحاق پاکستان کیا اور اسی وجہ سے 37 سالوں سے اپنے آپکو پاکستانی سمجھتے ہیں اور اب آئینی طور پر پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور وہ وقت بھی آچکا ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا پانچواں صوبہ ہوگا

گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا وہاں کی عوام کی خواہشات اور گلگت بلتستان اسمبلی کی متعدد قرادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مقتدر حلقے، سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں کہ گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنایا جائے تو فوری طور پر عمل ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ کچھ سازشی عناصر کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا تو ان کیلئے کہنا چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری صوبہ بنایا جا رہا ہے تاکہ مسلہ کشمیر کے حل تک وہاں کی عوام کو حقوق فراہم کئے جائیں۔

تبصرے