جہلم میں واقع ٹلہ جوگیاں جو اپنے اندر ایک تاریخ رکھتا ہے

جہلم میں واقع ٹلہ جوگیاں جو اپنے اندر ایک تاریخ رکھتا ہے
جہلم میں واقع ٹلہ جوگیاں جو اپنے اندر ایک تاریخ رکھتا ہے

ٹلہ جوگیا ں،ضلع جہلم کی سب سے بلند اور سلسلہ کوہ نمک کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ٹلہ جوگیاں،جہلم کی تحصیل دینہ میں واقع قلعہ روہتاس سے تقریبا چوبیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

تلہ جوگیاں تک جانے کے لیئے راستہ انتہائی دشوار ہے۔ٹلہ جوگیاں کی بلندی تقریبا بتیس سو فٹ ہے۔
یہاںہندو برادری کے مندر اور پانی جمع کرنے کے لیئے تالاب بھی موجود ہیں۔کہا جاتا ہے کہ یونانی سکندر راجہ اکبر جہانگیر اور گورونانک بھی ٹلہ جوگیاں آئے۔
ٹلہ جوگیاں پنجابی زبان کا لفظ ہے۔یہ دو لفظوں سے ملکر بنا ہے۔ٹلہ کا مطلب اونچی جگہ اور جوگیاں کا مطلب سادھو لوگ۔۔اس پہاڑی پر ہزاروں سا ل ہندو سادھو لوگ مقیم رہے۔اس لیے اس پہاڑ کو ٹلہ جوگیاں کا نام دیا گیا۔تاریخ کے اوراق میں ٹلہ جوگیاں کو ایک مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد یہاں سکون لینے آتے ہیں۔قیام پاکستان سے قبل ٹلہ جوگیاں میں جوگی رہا کرتے تھے جنہوں نے یہاں مختلف جڑی بوٹیاں لگا رکھی تھی۔لوگ ان جوگیوں کے پاس اپنا علاج کرانے آیا کرتے تھے ۔سکھ برادری کے مذہبی پیشوا،بابا گوروناناکھ بھی عبادت کی غرض سے ٹلہ جوگیاں آئے تھے۔ بابا گوروناناکھ کی آمد پر اُس وقت کہ راجہ رنجیت سنگھ نے ان کے لیئے خصوصی طور ایک تالاب بھی بنوایا تھا۔
تاریخ لکھنے والوں نے لکھا کہ،ہر عام و خاص کی زبان پر پنجاب کی عشقیاں کہانی،ہیر رانجھا کا اہم کردار،رانجھا نے بھی عشق میں ناکامی کے بعد ٹلہ جوگیاں کا ہی رخ کیا۔
ٹلہ جوگیاں ،جہلم کا وہ مقام ہے جو اپنے اندر خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ایک تاریخ بھی رکھتا ہے۔

تبصرے