حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا سات باتیں بیوی کے ساتھ مت کرنا

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا سات باتیں بیوی کے ساتھ مت کرنا
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا سات باتیں بیوی کے ساتھ مت کرنا

کسی شخص نے  حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا :اے امیر المومنین میری ابھی نئی شادی ہوئی ہے شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ کونسی باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے۔ جس سے میاں بیوی کے رشتے میں کوئی رنجش پیدا نہ ہو اور میاں بیوی ہمیشہ پیار محبت کیساتھ رہیں۔  حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے دل میں قدرتی طور پر پیار ڈالتا ہے کیونکہ میاں بیوی کا رشتہ نکاح سے بنتا ہے اور نکاح نصف ایمان ہے۔

اکثر لوگ اپنی بیویوں کیساتھ ایسی باتیں کرتے ہیں جن کی وجہ سے بیویاں اُن کی عزت کرنا چھوڑ دیتی ہیں اور بیویاں اپنے شوہروں کو تنگ کرتی رہتی ہیں ۔ شوہر اپنی بیوی کو جس طرح رکھے گا وہ ایسے ہی رہے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو پسلی کی ہڈی سے پیدا کیا ہے۔پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑا اوپر کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر تم اُسے بالکل سیدھا کرنا چاہو گے توتم اُسے توڑ دوگے یعنی جدائی کی نوبت آپہنچے گی۔عورت کے ٹیڑے پن کو برداشت کرتے ہوئے اُس کی خوبیوں سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ سات باتیں ایسی ہیں جو کبھی بھی اپنی بیوی کے ساتھ مت کرنا ۔

پہلی بات: کبھی بھی اپنی بیوی کے سامنے کسی دوسری عورت کی تعریف مت کرنا کیونکہ کوئی بھی بیوی اپنے شوہر کے منہ سے کسی دوسری عورت کی تعریف برداشت نہیں کرتی۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں اُن کی بیویوں کے دل میں شوہر کے لیے پیار اور عزت ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے شوہروں سے ہر وقت بیزار رہتی ہیں ۔

دوسری بات: کبھی بھی اپنی بیوی پر ہاتھ مت اٹھانا ۔ بیوی اگر کوئی غلطی کرے تو اُسے پیار سے سمجھانا ۔ بیوی کیساتھ مار پٹائی مت کرنا ۔ بیوی کو اُس کی غلطی کا احساس پیار سے دلانا۔ جو لوگ اپنی بیویوں کیساتھ مار پٹائی کرتے ہیں اُن عورتوں کے دل میں اپنے شوہروں کے لیے نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ بیویاں صرف مجبوری کی وجہ سے رشتہ نبھاتی ہیں ۔

تیسری بات: کبھی بھی اپنی بیوی کے سامنے کسی مشکل پریشانی کی وجہ سے مت رونا ورنہ بیوی کی نظر میں تم کمزور مرد بن جائو گے کیونکہ ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ اُس کا شوہر بہادر اور مضبوط ہوجوہر مشکل پریشانی کا ڈٹ کر مقابلہ کرے اور وہ اپنی بیوی کا سہارا بنے۔ بہادراور مضبوط مرد کی بیوی خود کو محفوظ سمجھتی ہے اور کمزور مرد کی بیوی خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے۔ مرد وہ ہوتا ہے جو اپنی بیوی کی آنکھوں میں کبھی آنسو نہ آنے دے نہ کہ خود اُس کے سامنے بیٹھ کر روئے۔

چوتھی بات: کبھی بھی اپنی بیوی کو مت بتانا کہ تم کتنا کماتے ہو۔ اگر تم زیادہ کماتے ہو تو تمھاری بیوی یہ جان کر فضول خرچی کرے گی اور اُسے تمھارے پیسے کی قد ر نہیں ہوگی۔ اگر تم کم کماتے ہو تو یہ جان کر ہمیشہ روتی ہی رہے گی ۔

پانچویں بات: کبھی بھی اپنی بیوی کو اپنا کوئی راز مت بتانا کیونکہ عورت کے دل میں کوئی بات نہیں رہتی ۔ یہ عورت کی فطرت ہے کہ جب تک کوئی راز یا بات کسی کو بتا نہ دیں اُسے سکون نہیں ملتا۔ عورت کے دل میں کوئی بات نہیں رہتی۔

چھٹی بات: کبھی بھی اپنی بیوی کے سامنے اپنے ماں ، باپ، بہن ، بھائی اور رشتہ داروں کی برائی مت کرنا کیونکہ عورت ویسے بھی اپنے شوہر کے رشتہ داروں کو کم پسند کرتی ہے اور جب شوہر خود ہی اپنے رشتہ داروں کی کوئی برائی اپنی بیوی کے سامنے کرتا ہے تو عورت کو اپنے شوہر کے رشتہ داروں سے دور بھاگنے کا موقع مل جاتا ہے اور وہ عورت اپنے شوہر کے رشتہ داروں کی عزت نہیں کرتی ۔

ساتھویں بات: کبھی بھی اپنی بیوی کو کسی دوسرے کے سامنے مت ڈانٹنا ۔ میاں بیوی کی آپس کی ناراضگی اپنے کمرے تک رکھنا ۔اگر بیوی سے کوئی غلطی ہوجائے تو اُسے اپنے گھر والوں کے سامنے برا بھلا بولنا کیونکہ ایسا کرنے سے عورت کے دل میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اُس کا شوہر اُس کی عزت نہیں کرتا۔ عورت اپنی عزتِ نفس کو لے کر بہت حساس ہوتی ہے۔

یہ وہ سات باتیں ہیں جن کا خیال رکھنے سے میاں بیوی کے رشتے میں کبھی کوئی رنجش پیدا نہیں ہوتی اور میاں بیوی ہمیشہ پیار محبت کیساتھ رہتے ہیں۔ انسان اپنی زندگی میں جو بھی گنا ہ کرتا ہے انسان کو اُن گناہوں کا حساب دینا پڑتا ہے ۔ زندگی میں جتنا ہوسکے ، گناہوں سے دور رہواورنماز کی پابندی کرو۔ نماز پڑو، اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھی جائے ۔

تبصرے