ایمازون جنگل کے بارے میں ایسے حقائق جو آپ کے ہوش اُڑا دیں

ایمازون جنگل کے بارے میں ایسے حقائق جو آپ کے ہوش اُڑا دیں
ایمازون جنگل کے بارے میں ایسے حقائق جو آپ کے ہوش اُڑا دیں

ممکن ہے کہ آپ نے دنیا کے سب سے بڑے جنگل ’ایمازون‘ کے بارے میں سن رکھا ہو گا۔ یہ جنگل افریکا میں واقع ہے اور اِسے زمین کا دل بھی کہا جاتاہے کیونکہ زمین پر بیس فیصد اکسیجن اِسی جنگل سے ہی خارج ہوتی ہے۔ یہ جنگل اتنا بڑا ہے کہ اس میں 9ممالک ’کولمبیا، برازیل، پیرو اور شمالی امریکا کے ممالک سموئے ہوئے ہیں۔ اس جنگل کا کل رقبہ 5.5ملین مربع کلو میٹر ہے جو کہ پاکستان کے کل رقبے کا آٹھ فیصد بنتا ہے جبکہ پوری زمین کے کل کل رقبے کاچار فیصد بنتا ہے۔

ایمازون جنگل کے درخت اتنے بڑے اور گھنے ہیں کہ اِ ن کے نیچے چوبیس گھنٹے اندھیرا ہی چھایا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر دریا کی بات کی جائے تو اس جنگل کا دریا دنیا کا سب سے بڑا دریا کہلاتا ہے۔ ایمازون جنگل میں 17ہزار اقسام کے درخت پائے جاتے ہیں جبکہ اس جنگل کی ندیوں میں پانچ ہزار سے زائد اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔ یہاں پر تیس ہزار سے بھی زائد اقسام کے کیڑے موجود ہیں۔ یہ بات جان کر آپ حیران رہ جائیں گے کہ اس جنگل کے اندر تین ہزار سے زیادہ صرف مکڑیوں کی اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہ ہی نہیں بلکہ یہاں دنیا کے سب سے خطرناک جانوربھی پائے جاتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:

بلٹ آنٹ

بلٹ آنٹ ایک ایسی چیونٹی ہے جو بابظاہر تو بہت چھوٹی ہوتی ہے لیکن اِس کا کاٹنا گولی لگنے کے برابر ہے اور درد بھی گولی لگنے جیسا ہی ہوتا ہے۔ اِ س کے کاٹنے سے اتنا شدید بخار ہوتا ہے کہ انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اِسی وجہ سے اِسے بلٹ آنٹ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ چیونٹی ایمازون کے جنگل میں بہت زیادہ تعداد میں پائی جاتی ہے۔

مینڈک

ایمازون کے جنگل میں 120اقسام کے زہریلے مینڈک پائے جاتے ہیں۔ لال اور سنہری رنگت کے مینڈک بظاہر تو بہت خوبصورت دیکھائی دیتے ہیں لیکن ایک مینڈک میں دس افراد کو مارنے جتنا زہر بھرا ہوتا ہے۔ یہ مینڈک کئی رنگوں میں پائے جاتے ہیں اور بارشوں کے موسم میں سب سے زیادہ دیکھائی دیتے ہیں۔ یہاں گھومنے والے لوگ سانپوں سے تو نہیں ڈرتے لیکن اِن مینڈکوں کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیتے ہیں۔

اینا کونڈا

آپ نے اکثر اینا کونڈا سانپ کو ہولی وڈ کی فلموں میں دیکھا ہو گا جو کہ انسانوں کو نگل لیتے ہیں،لیکن حقیقت میں اتنا بڑا اینا کونڈا نہیں پایا جاتا۔ ایمازون کے جنگل میں پائے جانے والے اینا کونڈا سانپ کی لمبائی تیس سے چالیس فٹ تک ہوتی ہے۔ اِس کا زہر اتنا زہریلا تو نہیں ہوتا لیکن یہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ یہ سانپ چھوٹے بڑے جانوروں کو نگل جاتا ہے اور اگر یہ سانپ کسی بڑے جانور کو نگل جائے تو کئی مہینوں تک بغیر کھائے پیئے زندہ رہ سکتا ہے۔

یہ سانپ زیادہ تر پانی والے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایمازون جنگل میں ایک ایسی ندی بھی موجود ہے جس کا درجہ حرارت 110ڈگری سینٹی گریڈ ہے اور اِس کا پانی ہر وقت ابلتا رہتا ہے؟جی ہاں اگر اس ندی سے متعلق اپنے قارئین کو بتائیں تو اس ندی کا پانی شدید گرم ہوتا ہے۔ یہاں پر رہائش پذیر لوگوں کی جب موت واقع ہو جاتی ہے تو اُس کی نعش کو اِسی ندی میں بہا دیا جاتا ہے۔اُن کا ماننا ہے کہ یہ ندی جنت کا ایک راستہ ہے۔

جگوار

ایمازون جنگل میں سب سے خطرناک جانور جگوار ہے جو کہ تیندوا کی نسل کے قریب تر ہے۔ یہ بہت پھرتیلا ہوتا ہے اور انسانی آباد ی کا رخ نہیں کرتا لیکن جنگل کا کوئی بھی جانور اِس کے شکار سے نہیں بچ سکتا۔

ایگل

ایمازون جنگل میں ایک ایسا عقاب پایا جاتا ہے جو بہت خطرناک ہے۔ اسکا حجم اتنا بڑا ہے کہ صرف اس کے ایک پَر کی لمبائی تین فٹ سے بھی زیا دہ ہوتی ہے جبکہ اِس کا وزن پانچ سے چھ کلو تک ہوتا ہے۔ یہ اپنے وزن سے دوگنا سے زائد وزن اپنے پنجے میں پکڑ کر اُڑ سکتا ہے۔ اِس کا بہترین شکار بندر ہے اور اِس کے علاوہ بڑے جانوروں کے بچوں کو بھی یہ اپنا شکار بناتا ہے۔

تبصرے