ڈگری والوں کی بڑی تعدادبے روزگار ،ہنر والے کامیاب،جوان کیا راہ اپنائے؟پڑھئیے۔۔

ڈگری والوں کی بڑی تعدادبے روزگار ،ہنر والے کامیاب،جوان کیا راہ اپنائے؟پڑھئیے۔۔
ڈگری والوں کی بڑی تعدادبے روزگار ،ہنر والے کامیاب،جوان کیا راہ اپنائے؟پڑھئیے۔۔

ملک پاکستان ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں بے روزگاری تیزی سے پھیل رہی ہے۔دنیا بھر کی معیشت کو متاثر کرنے والی مہلک وباء کورونانے متعدد ممالک کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا۔

اس تمام ترصورتحال میں پاکستان کی معیشت پہلے ہی درست نہ تھی مگر کورونا کے بعد مزید بگڑ گئی۔ملک پاکستان میں جوانوں کے اندر شدید مایوسی پھیلتی جارہی ہے۔بڑی تعداد میں ہمارے ملک میں جوان بے روزگار ہیں اور اگر کسی کے پاس روزگار ہے تو وہ اس نوکری سے مطمئن نہیں ۔مطمئن نہ ہونے کی وجہ جوان یہ بتاتیں کہ ان سے کام بے حد لیا جاتا ہے مگر معاوضہ اس طرح سے نہیں دیا جاتا جو انکی محنت کا بنتا ہے۔

ہنر سیکھنے والا جوان بلال۔۔

راولپنڈی میں ایک جوان جس نے میٹر ک تک تعلیم حاصل کی جس کے بعد اسنے اس خواہش کا اظہار کیااپنے والد سے کہ وہ پڑھائی نہیں بلکہ وہ گاڑیوں کا کام سیکھے گا جو کہ بلال کے والد کر رہے تھے۔والد نے اپنے بیٹے کی بات سن کر اس پر ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ گاڑیوں کے کام میں ماحول درست نہیں یہاں کام کرنے والے جوان بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں تاہم بلال نے اپنے والد کی بات مان لی اور آگے پڑھائی جاری رکھتے ہوئے کالج میں داخلہ لیا مگر پڑھائی میں شوق نہ ہونے کے باعث وہ اپنی تعلیم میں کامیاب نہ ہوا اور دوبارہ والد سے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ پڑھائی نہیں بلکہ گاڑیوں کا کام سیکھے گا۔

اس بار والد نے اپنے بیٹے کی بات مان لی اور بلال کے والد نے اسے اپنی ہی ورکشاپ میں کام سیکھنے کے لیئے چھوڑ دیا ۔بلال کہتے ہیں انہیں اس کام کا شوق تھا مگر اس کام میں محنت کافی درکار تھی۔کام سیکھتے وقت انہیں کافی مشکلات اور تلخ جملے بھی سننے پڑھے مگر انہوں نے ہمت نہ ہاری او ر کام سیکھا۔

بلال کے والد کہتے ہیں کہ ا ب انکا بیٹا رتمام تر کام سیکھ گیا ہے اب وہ خود ورکشاپ جائیں نہ جائیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ انکا بیٹا اب سارا کام خود با آسانی سنبھال لیتا ہے۔

بلال سے جب اس کام اور اس کام کی کمائی کا پوچھا گیا تو بلال نے اس بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کام سے بے حد خوش ہیں اور وہ اس کام سے کسی بھی ڈگر ی لینے والے جوان سے زیادہ کما لیتے ہیں ۔بلال نے کہا کہ وہ ماہانہ لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ با آسانی کما لیتے ہیں۔

ملک میں بڑھتی بے روزگاری کے بعد ہنر والی تعلیم کی ضرورت ہے

ملک پاکستان میں صوبہ پنجاب میں فقط ٹیکنیکل بنیادوں پر تعلیم دینے کے لیئے کچھ ادارے بنائیں گے ہیں ۔جہاں جوانوں کی ایک بڑی تعداد ہنر سیکھتی ہے اور اپنے ہنر کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں۔ایک اعدادو شمار کے مطابق 2018میں ٹیکنیکل اداروں میں ہنر سیکھنے والوں کی تعداد کافی حد تک بڑھ چکی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جوان اب ڈگری والی تعلیم سے ہنر سیکھنے پر زیادہ گامزن ہورہے ہیں۔

تبصرے