میں نہیں بتاوں گا کہ لندن سے خبر کس نے چھپوائی،شہباز شریف

میں نہیں بتاوں گا کہ لندن سے خبر کس نے چھپوائی،شہباز شریف

لاہور کی احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران میاں شہباز شریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف لندن میں جو خبر چھپوائی گئی، میں اسکا نام نہیں بتاوں گا ۔

دورانِ سماعت نیب کے گواہ بلال ضمیر نے شہباز شریف اور دیگر کے خلاف کہا کہ نیب کے تفتیشی افسر نے مجھ سے ریکارڈطلب کیا تھا۔ میں نے حمزہ شہباز، سلمان شہباز شریف اور رابعہ عمران کا ریکارڈ دیا، اس ریفرنس میں دیا گیا تمام ریکارڈ تصدیق شدہ ہے۔اس سے قبل جیل حکام نے شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو لاہور کی احتساب عدالت پہنچا دیا۔احتساب عدالت میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے روسٹرم پر حاضری کروائی۔فاضل جج نے ایسوسی ایٹ وکیل سے دریافت کیا کہ امجد پرویز کدھر ہیں؟ایسوسی ایٹ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز کی طبیعت نا ساز ہے کہ جس کی وجہ سے وہ پیش نہیں ہوئے۔جج نے کہا کہ مجھ سے بے شک 25سال کی تاریخ لے لیں مگر بوجھ آپ پر ہی پڑے گا۔جج نے شہباز شریف سے سوال کیا کہ میاں صاحب آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟شہباز شریف نے کہا کہ ابھی تک تو میرا میڈیکل بورڈ بھی نہیں بن سکا ہے۔جج نے انہیں جواب دیا کہ آج آپ کی درخواست پر فیصلہ کر دوں گا۔شہباز شریف نے کہا کہ یہ منی لانڈرنگ کیس میرے اوپر لگائے گئے کرپشن کے الزام ثابت نہیں کرسکتا ۔میرے خلاف لندن سے خبر چھپوائی گئی، جس نے خبر چھپوائی ہے اس کا نام نہیں لوں گا، ڈیلی میل نے جب خبر شائع کی تو برطانوی حکومت نے اتوار کو آفس کھول کر تحقیقات کیں۔

تبصرے