گاڑی پر تھا مجھے کہا گیا چائنیز وائرس،پھر مارا گیا،یورپ اب ایشیاء کے لوگوں کے لیئے محفوظ نہیں
کورونا وائرس جس کا نام کون نہیں جانتا اس مہلک وائرس نے پوری دنیا کو دیکھتے ہی دیکھتے اپنی لپیٹ میں لے گیا اس وائرس سے جانی و مالی
دونوں نقصان اس دنیا کو اٹھانے پڑے جسکا سلسلہ اب تک جاری ہے اور یہ سلسلہ کب رکے یہ بھی کوئی بنی نوع انسان نہیں جانتا
وائرس کی روک تھام میں پوری دنیا میں لاک ڈاؤن لگایا گیا لوگ گھروں میں بند رہے اب بھی ہیں۔
لاک ڈاؤن کے بعد طویل عرصہ گھروں میں رہنے معاشی حالت ابتر ہونا،ان حالات نے انسانی رویے کئیں اپنی تاریخ میں سمو لیئے
گھروں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ،شرح طلاق میں اضافہ،متعدد چیزیں سامنے آئی۔

جو لوگ یورپ کی طرز زندگی گزار چکے یا پھر واقف ہیں وہ باخوبی جانتے ہیں وہاں کے مکینوں کے لیئے گھروں میں رہنا محال ہوتا ہے وہ لوگ دن بھر کام کر کے ہفتے کے آخر میں کمایا ہوا پیسہ خرچ کرنے کلب یا مارکیٹس کا رخ کرتے ہیں ایسے میں ان لوگوں کا کہیں آنا جانا بند کردیا جائے کلبز بند کردیئے جائیں یقینا ان کا انفرادی و اجتماعی رویہ بدلے گااور نتائج بھی سامنے آئیں گے

سبھی جانتے ہیں یہ مہلک وائرس بنام کورونا چین کے شہر ووہان سے نمودار ہوا اور پھر دیکھتے دیکھتے سبھی ممالک تک پہنچ گیا اور اس وائرس کے پھیلاؤ کا وسیلہ بنا انسان۔۔چین سے اٹھنے والا یہ وائرس جب امریکہ پہنچا تو امریکہ اور چین میں لفظی وار کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔امریکی صدر ٹرمپ نے یہ الزام چین پر دھر دیا کہ یہ وائرس چین کی لیب سے پھوٹا ہے جسے چین نے جان بوجھ کر جنم دیاہے تاہم اس الزام کی تحقیقات عالمی ادارہ صحت نے کی مگر کچھ نہ ملا۔۔
دونوں ممالک کی لفظی گولہ باری سے کچھ یہ ہوا کہ دونوں ممالک کے باشندے بھی ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے اور یہ نفرت کا سلسلہ کورونا کی طرح پورے یورپ میں پھیل گیا جس کے نتائج سامنے آنے لگے۔۔

حال ہی میں ایک چینی باشندہ جو لندن میں مقیم ہے اپنی داستان بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ جوگنگ کر رہا تھا کہ اچانک اس کے کانوں میں ایک آواز آئی “او چینی وائرس “ظاہر ہے وہ جملے انگریزی میں تھے جسکا ترجمہ یہاں لکھ دیا۔چینی باشندہ بتاتا ہے اس نے سنی ان سنی کردی مگر سلسلہ ایک آواز تک نہ رکا بلکہ مزید بھی اس پر جملے کسے گئے اور اس شخص کی تضحیک کی گئی اور پھر سلسلہ آوازوں تک بھی نہ رہا اب معاملہ تشدد پر آگیا۔
کچھ افراد کی جانب سے چینی باشندے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس پر چینی باشندے کی جانب سے کہا گیا کہ یورپ اب ایشیاء کے لوگوں کے لیئے محفوظ نہیں رہا۔

تبصرے