ریٹنگ کیسے آئے؟

میڈیا میں یہ سوال”ریٹنگ کیسے آئے؟”اہداف ہوتا ہے اور پھر ماہ رمضان کی ٹرانسمیشن میں یہ سوال چینلز مالکان کو سونے نہیں دیتا۔اس سوال کو حل کرنے کے لیئے بڑے بڑے دماغ مل بیٹھتے ہیں۔

کوئی کہتا ہے فلاں متنازع شخصیت کو ٹرانسمیشن کا حصہ بنایا جائے کیونکہ وہ ضرور ایسی بات کردے گا جو خوب
وائر ل ہوگی اور اس سے ہمارا مقصد بھی پورا ہوتا رہے گایعنی کے ریٹنگ۔کوئی یہ کہتا نظرآتا ہے کیوں نہ پروگرامز میں مدعو کیئے جانے والے مہمانوں سے ایسے اختلافات پر مبنی سوالات کا سلسلہ شروع کیا جائے جس میں دونوں مہمانو ں کا پہلے سے ہی فکری طور پر اختلاف پایا جاتا ہو اور کچھ تو پہلے سے طے شدہ سوالات یعنی پلانٹیڈ سوالات بھی پروگرامز کا حصہ ہوتے ہیں اور انکے جوابات بھی۔یقینا جب اس سوال کا معمہ حل ہوجاتا ہے تو پھر بڑے بڑے برینڈز ان پروگرامز میں پیسہ لگاتے ہیں اور یوں چینلز مالکان کا ہدف بھی پورا ہوجاتا ہے۔
اب آپ دو منٹ خود کو تنہائی میں لے جائیں اور یہ سارا معاملہ سمجھیں۔دین کے نام پر پروگرامز،دین کے نام پر بڑی بڑی ٹرانسمیشن،دین کے نام پر باتیں،دین کے نام پر نیکیوں کے سیگمنٹ اتنا کچھ دین کے نام پر کیاجاتا ہے تو فائدہ تو اصولی طور پر دیکھا جائے تو دین کو ہی ہونا چاہیئے۔مگر معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے۔آپ سماج میں نظر دوڑائیں اور سوشل میڈیا پر ان ٹرانسمیشن کے کلپس جو شئیر کیئے جاتے ہیں ان کے نیچے لوگوں کے کمنٹس کا جائزہ لیں۔ کیا لوگ کلپس کے کمنٹ میں ایک دوسرے سے محبت سے پیش آرہے ہوتے ہیں یا نفرت سے؟دین جس نے لہوو لعب کی گفتگو سے منع فرمایا ہے کیا یہ کلپس دیکھنے کے بعد ہمارے لوگ ایسی گفتگو میں نہیں پڑ جاتے؟دین جس نے ہر کسی کی عزت کومقدم جانا ہے ان ٹرانسمیشن کو دیکھنے کے بعد کیا لوگ ایک دوسرے کی عزت کی دھجیا اڑاتے ہمیں سوشل میڈیا پر نظر نہیں آتے؟گو کہ دین نے جس جس پہلو سے منع کیا ان ٹرانسمین نے وہ تمام تر کام کرنے کا میدان ہموار کر کے لوگوں کو دیدیا۔

اگر کوئی کہے ان ٹرانسمیشن نے دین کو بہت فائدہ بھی پہنچایا ہے تو بتائیے؟دین کا نفع یہ ہے کہ دین کا غلبہ ہو مگر ان چینلزمالکان نے دین کے نفع کو بالائے طاق رکھتے ہیں اپنے کاروبار کو ضرور نفع پہنچایا ہے۔کاروبار ہے کیجئے آپ سرمایہ دار ہیں ضرور کیجئے مگراپنے کاروبار کے لیئے دین کو مت استعمال کیجئے۔اپنے کاروبار کے لیئے دین کے نام پر لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیئے نفرتیں نہ پیدا کیجئے۔اپنے کاروبار کے لیئے ان ٹرانسمیشن میں علماء کرام کا لبادہ اوڑھے ہوئے لوگوں کو مت بلائیے بلکہ حقیقی عالم دین کو بلائیے تاکہ دین کی اصل معنوں میں ترجما نی ہوسکے۔
اے علم کے شہر (ﷺ)کی کہلائی جانے والی امت،خود کو ایسے ریوڑ کا حصہ نہ بناؤ کہ جہاں چرواہا تمہیں لے جائے تم وہاں چل دو۔ہمارے دین نے ہمیں عقل استعمال کرنے کے لیئے عطا کی ہے۔استعمال کریں تا کہ ان عناصر کے مقاصد میں آپ استعمال نہ ہوں۔ایسی ٹرانسمشین کبھی دین کی حقیقی پاسداری نہیں کریں گی کیو نکہ انکا ہدف دین نہیں بلکہ” ریٹنگ کیسے آئے گی؟” یہ ہوتا ہے۔

تحریر:نادر شاہ

نوٹ:اردو ٹرینڈز کا اور اسکی پالیسی کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی کوئی تحریر لکھنا چاہتے ہیں تو لکھیں اور ہمیں ہمارے ای میل ایڈریس پر اپنی مکمل معلومات جن
میں اپنا مختصر مگر جامع تعارف اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی سوشل میڈیا آئی ڈیز کے لنک بھی بھیجئے

Email: urdutrends1@gmail.com

تبصرے